۱؎ منیّہ لغت میں مقرر چیزکو کہتےہیں۔اصطلاح میں موت کو منیّہ کہا جاتا ہے کہ اس کا وقت مقرر ہے،پھربلاؤں اور آفتوں کو منیّہ کہا جانے لگا کہ یہ اسبابِ موت ہیں۔مثل یا تو ماضی ہے،بمعنی قَدَرَوَ خَلَقَ یعنی انسان آفتوں میں گھرا ہوا پیدا ہوا ہے کیونکہ اس کا نفس امّارہ بہت سرکش ہے،یہ آفتوں سے ٹھکانا پُر رہتا ہے،آرام پاکر دعویٰ خدائی تک کربیٹھتاہے یا مثل حصہ رہے،یعنی انسان کی مثل اس کی سی ہے جو ۹۹ آفتوں میں ہرطرف سے گھرا ہو،۹۹سے عدد خاص مراد نہیں بلکہ کثرت بیان فرمانا مقصود ہے۔
۲؎ یعنی انسان کے لیے اسباب موت بے شمار ہیں،ہر گھڑی موت سر پر کھڑی ہے لیکن اگر بحکم پروردگار ان سب سے بچ گیا تو آخر بڑھاپا تو آئے گا ہی جس کے بعدموت یقینی ہے،لہذا حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ تقدیر میں تو آفتیں تھیں مگر انسان اپنے کمال سے بچتا رہتا ہے کیونکہ تدبیر سے تقدیر نہیں بدلتی۔