| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت محمد ابن خالدسلمی سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے ۱؎ راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب کسی بندہ کے لیئے کوئی درجہ رب کی طرف سے مقدر ہوچکا ہوجہاں تک یہ اپنے عمل سے نہیں پہنچ سکتاتو اﷲ اسے اس کےجسم یا مال یا اولاد کی آفت میں مبتلاکردیتا ہے پھر اسے اس پرصبربھی دیتا ہے حتی کہ اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے جو رب کی طرف سے اس کے لیئے مقدر ہوچکا۲؎(احمد،ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی محمد ابن خالد کے دادا سے جوصحابی ہیں،عرصہ تک صحبت پاک میں رہے،ان کا نام شریف جلاج ابن حکیم ہے۔ ۲؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مصیبت پرصبراﷲ کی توفیق سے ملتا ہے نہ کہ اپنی ہمت و جرأت سے اورصبراﷲ کی بہت بڑی نعمت ہے۔دوسرے یہ کہ درجات اعمال سے ملتے ہیں،بخشش رب کے کرم سے۔علماءفرماتے ہیں کہ جنت کا داخلہ اﷲ کے فضل سے ہوگا مگر وہاں کے درجات مؤمن کے اعمال سے،مگر کبھی دوسرے کے عمل بھی کام آجاتے ہیں،صابرمؤمن کی چھوٹی اولاد اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی رہے گی ا گرچہ کچھ عمل نہ کرسکی،کیوں؟ماں باپ کے عمل سے،رب فرماتا ہے:"اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ"۔ان شاءاﷲ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال میں،امام حسین علیہ السلام کے صبر میں ہم گنہگاروں کا حصہ ہے،سخی کے مال میں فقیروں کا حصہ،ان سرکاروں کے اعمال میں ہم بدکاروں کا حصہ،رب فرماتا ہے:"وَ فِیۡۤ اَمْوٰلِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوۡمِ"۔تیسرے یہ کہ انسانوں کے درجات وغیرہ پہلے سے ہی مقرر ہوچکے ہیں جہاں لامحالہ پہنچتا ہے،قیامت کے دن اس کا ظہور ہوگا۔