۱؎ مقصد یہ ہے کہ کسی مؤمن صالح کو بلاؤں میں گرفتار دیکھ کر یہ نہ سمجھ لو کہ یہ بڑا آدمی ہے،نیکوں پر بڑی مصیبتیں بڑے درجات ملنے کا ذریعہ ہیں۔حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کافر و بدکار پر بڑی بلا آجائے تو اس کا درجہ بڑا ہوگیا،یہ سب کچھ مؤمن کے لیے ہے،مُردے کو بہترین دوائیں دینا بیکار ہے،جڑ کٹے درخت کی شاخوں کو پانی دینا بے سود،اگر کافر عمر بھرمصیبت میں رہے،جب بھی دوزخی ہے اور اگر مؤمن صالح عمر بھر آرام میں رہے جب بھی جنتی،ہاں تکلیف والے مؤمن کے درجے زیادہ ہوں گے بشرطیکہ صابر اور شاکر رہے۔
۲؎ خیال رہے کہ رضا یا ناراضی دل کا کام ہے،لہذا تکلیف میں ہائے وائے کرنا اس کے دفع کی کوشش کرنا یا مریض و مظلوم کا حکیم و حاکم کے پاس جانا ناراضی کی علامت نہیں،ناراضی یہ ہے کہ دل سےسمجھے کہ رب نے مجھ پرظلم کیا میں اس بلا کامستحق نہ تھا۔یہاں صوفیاء فرماتے ہیں کہ بندے کی رضا رب کی رضا کے بعدہے،پہلے اﷲ بندے سے راضی ہوتا ہے تو بندہ رب سے راضی ہوکر اچھے اعمال کی توفیق پاتاہے،پہلے وہ ہمیں یادکرتا ہے تو بعدمیں ہم اسےیادکرتے ہیں،پھر ہماری یاد کے بعد رب ہمیں یادکرتاہے"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"یہ کیونکہ بہت باریک ہے،مولانا فرماتے ہیں۔شعر
گفت اﷲ گفتنت لبیک ما است ایں گداز و سوز و درد از پیک ما است