Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
791 - 993
حدیث نمبر 791
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بڑا ثواب بڑی بلاءکے ساتھ ملتا ہے ۱؎ اللہ تعالٰی جب کسی قوم سےمحبت کرتا ہے تو انہیں مبتلاکردیتا ہے جو راضی ہوتا ہے اس کے لیئے رضا ہے اور جو ناراض ہوتا ہے اس کے لیئے ناراضی ہے۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ مقصد یہ ہے کہ کسی مؤمن صالح کو بلاؤں میں گرفتار دیکھ کر یہ نہ سمجھ لو کہ یہ بڑا آدمی ہے،نیکوں پر بڑی مصیبتیں بڑے درجات ملنے کا ذریعہ ہیں۔حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کافر و بدکار پر بڑی بلا آجائے تو اس کا درجہ بڑا ہوگیا،یہ سب کچھ مؤمن کے لیے ہے،مُردے کو بہترین دوائیں دینا بیکار ہے،جڑ کٹے درخت کی شاخوں کو پانی دینا بے سود،اگر کافر عمر بھرمصیبت میں رہے،جب بھی دوزخی ہے اور اگر مؤمن صالح عمر بھر آرام میں رہے جب بھی جنتی،ہاں تکلیف والے مؤمن کے درجے زیادہ ہوں گے بشرطیکہ صابر اور شاکر رہے۔

۲؎ خیال رہے کہ رضا یا ناراضی دل کا کام ہے،لہذا تکلیف میں ہائے وائے کرنا اس کے دفع کی کوشش کرنا یا مریض و مظلوم کا حکیم و حاکم کے پاس جانا ناراضی کی علامت نہیں،ناراضی یہ ہے کہ دل سےسمجھے کہ رب نے مجھ پرظلم کیا میں اس بلا کامستحق نہ تھا۔یہاں صوفیاء فرماتے ہیں کہ بندے کی رضا رب کی رضا کے بعدہے،پہلے اﷲ بندے سے راضی ہوتا ہے تو بندہ رب سے راضی ہوکر اچھے اعمال کی توفیق پاتاہے،پہلے وہ ہمیں یادکرتا ہے تو بعدمیں ہم اسےیادکرتے ہیں،پھر ہماری یاد کے بعد رب ہمیں یادکرتاہے"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"یہ کیونکہ بہت باریک ہے،مولانا فرماتے ہیں۔شعر

گفت اﷲ گفتنت لبیک ما است	ایں گداز و سوز و درد از پیک ما است
Flag Counter