۱؎ غشی یا تپش دورکرنے کے لیے یہ عمل فرماتے تھےکیونکہ بوقتِ موت بہت گرمی محسوس ہوتی ہے اسی لیے اکثر اس وقت میت کو پسینہ آجاتا ہے اور پیاس کا غلبہ ہوتا ہے اسی لیے اس وقت منہ میں پانی ٹپکانے کا حکم ہے اگرچہ سردی کا موسم ہو۔
۲؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ منکرات سے مراد وسوسے اور برے خیالات ہیں جن سے میت کا دھیان رب سے ہٹ جائے اورسکرات سکرۃ کی جمع ہے،بمعنی غشی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی"۔یہاں وہ تکلیف مراد ہے جوعقل زائل کردے یعنی سخت تکلیف اور یہ دعا امت کی تعلیم کے لیے ہے کہ اس وقت یہ دعا کیا کریں۔مطلب یہ ہے کہ مجھے ان تکالیف کو برداشت کرنے کی طاقت دے یا انہیں کم فرمادے،یہاں شیخ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سلطنت الہیہ کے متولی اورمنتظم ہیں،کون و مکان کے سارے احکام آپ کو سپرد ہیں،تمام جہان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دائرہ حکومت میں ہے،ایسی ذمہ دارہستی جب احکم الحاکمین کی بارگاہ میں جائے تو اسے ہیبت زیادہ ہوتی ہے،اس وقت حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر ہیبت الہیہ کا غلبہ تھا،اس کی کیفیت تھی۔(اشعۃ اللمعات)اسی شدت کی اور بہت وجہ بیان کی گئی ہیں،مگر حق یہ ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حالات ہمارے عقل وقیاس سے وراء ہیں۔