| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدت موت دیکھنے کے بعد کسی کی آسان موت پر رشک نہیں کرتی ۱؎(ترمذی،نسائی)
شرح
۱؎ دوسرے کی بھلائی اپنے لیے بھی چاہنا غبطہ یا رشک کہلاتا ہے اورکسی کی نعمت پرجلنا اور اس کا زوال چاہنا حسد یا جلن کہا جاتا ہے،رشک کبھی اچھا ہوتا ہے کبھی برا مگر حسد ہمیشہ بری ہی ہوتی ہے۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پہلے میں کسی کی جانکنی آسان دیکھتی تو رشک کرتی اور چاہتی تھی کہ میری موت بھی ایسی ہی آسان ہو۔سمجھتی تھی کہ آسان نزع مرنے والے کی نیکی ومقبولیت کی علامت ہے مگر جب حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی شدت نزع دیکھی تو یہ خیال و رشک دونوں جاتے رہے،سمجھ گئی کہ سختی جانکنی اچھی چیز ہے بری نہیں۔