Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
787 - 993
حدیث نمبر 787
روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سخت مصیبت والے کون ہیں فرمایا انبیاء پھر ترتیب وار افضل لوگ ۱؎ انسان اپنی دینداری کے مطابق مبتلا ہوتا ہے اگر اس کے دین میں سختی ہے تو اس کی بلائیں بھی سخت ہوں گی ۲؎ اور اگر اس کے دین میں نرمی ہے تو اس پر آسانی کی جائے گئی ایسا ہی ہوتا رہے گا حتی کہ وہ زمین پر بے گناہ ہوکر چلے گا۔(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
شرح
۱؎ بزرگوں کی سخت آزمائش کی چند وجوہ ہیں:ایک یہ کہ انہیں آزمائشوں میں ایسی لذت آتی ہےجیسی دوسروں کو نعمتوں میں۔دوسرے یہ کہ ان کی یہ تکالیف ان کی بندگی کی دلیل ہیں اگر وہ بیمار نہ ہوں تو معتقدین انہیں خدا سمجھ لیں۔قبطیوں نے فرعون کو خدا سمجھاکیونکہ وہ کبھی بیمار نہ پڑا۔تیسرے یہ کہ ان کی مصیبتوں کی وجہ سے دوسرے پر مصیبت آسان ہوجاتی ہے،کربلا کے واقعہ سے لوگوں کو بہت صبروسکون نصیب ہوتاہے۔

۲؎ کیونکہ بڑے طالب علموں کا امتحان بھی بڑا ہوتا ہے اور بعد امتحان انہیں عہدہ بھی بڑا ملتا ہے اور چھوٹے طالب علموں کا امتحان چھوٹا۔شعر

 بڑوں کو دکھ بہت ہے اور چھوٹوں سے دکھ دور	تارے سب نیارے رہیں گہن چاند اور سور
Flag Counter