| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت جابر ابن عتیک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ کی راہ میں مارے جانے کے سوا سات شہادتیں اوربھی ہیں ۱؎ طاعون والا شہید ہے،ڈوبا ہوا شہید ہے،ذات الجنب کی بیماری والا شہید ہے،پیٹ کی بیماری والا شہید ہے ۲؎ آگ والا شہید ہے،دب کر مرنے والا شہید ہے،عورت ولادت میں مرجائے تو شہیدہے۳؎(مالک،ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ جن میں شہادت فی سبیل اﷲ کا ثواب ملتا ہے جنہیں شہادت حکمی کہتے ہیں کہ ان لوگوں کا حشرشہداء کے ساتھ ہوگا مگر ان شہادتوں پر کچھ شرعی احکام جاری نہیں ہوتے۔ ۲؎ یعنی جو طاعون میں صابر ہوکر مرے اور پیٹ کے درد یا دست یا استسقاءوغیرہ بیماری سے مرے یا ذات الجنب کی بیماری سے مرے جس میں پسلیوں پر پھنسیاں نمودار ہوتی ہیں،پسلیوں میں درد اوربخار ہوتا ہے،اکثر کھانسی بھی اٹھتی ہے یہ سب لوگ حکمًا شہید ہیں،یہ رب کی رحمت ہے کہ ان لوگوں کو درجۂ شہادت عطا فرماتا ہے۔ ۳؎ اس طرح کہ حاملہ فوت ہوجائے یا ولادت کی حالت میں میلا نہ نکلنے کی وجہ سے مرے یا ولادت کے بعد چالیس دن کے اندر فوت ہو بہرحال وہ حکمًا شہید ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سے مرادکنواری عورت ہے جو بغیر شادی فوت ہوجائے۔