| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مسلمان کسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو فرشتہ سے کہاجاتا ہے کہ تو اس کی وہی نیکیاں لکھ جو یہ پہلے کرتا تھا ۱؎ پھر اگر رب اسے شفا دیتا ہے تو اسے دھو دیتا ہے اورپاک کردیتا ہے اور اگر اسے وفات دیتا ہے تو اسے بخش دیتا ہے اور رحم کرتا ہے۲؎ یہ دونوں حدیثیں شرح سنہ میں ہیں۔
شرح
۱؎ سبحان اﷲ! کیسا مبارک فرمان ہے کہ بیمارکو تندرستی کی نیکیوں کا ثواب ملتا رہتا ہے مگرتندرستی کے گناہوں کا عذاب نہیں ہوتا،یعنی اگر چور بدمعاش بیماری کی وجہ سے چوری،بدمعاشی نہ کرسکے تو اس کے نامۂ اعمال میں چوری وغیرہ لکھی نہ جائے گی،بلکہ ممکن ہے کہ توبہ کی توفیق مل جائے جس سے ان گناہوں کی معافی ہوجائے اس لیے یہاں صالح عمل ارشاد ہوا یہ سب اس لیے ہے کہ ہم اس کے حبیب کی امت ہیں۔ ۲؎ یہ جملہ فقیر کی گزشتہ شرح کی تائید کررہا ہے کہ مؤمن کی بیماری میں گناہوں کی تو بخشش ہوجاتی ہے مگر بدستور نیکیاں لکھی جاتی رہتی ہیں،گویا بیماری روحانی غسل ہے یا میلے دل کا صابن۔