| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب بندہ عبادت کے اچھے رستہ پر ہوتا ہے ۱؎ پھر بیمار ہوجاتا ہے تو اس پرمقرر شدہ فرشتہ سے کہاجاتاہے تو اس کے تندرستی کے زمانہ کے برابر اعمال لکھ یہاں تک کہ میں اسے شفادے دوں یا اپنے پاس بلالوں۲؎
شرح
۱؎ یعنی تندرستی میں عبادت کرتا ہے رب سے غافل نہیں ہوتا پھر بیمار پڑ جاتا ہے۔ ۲؎ اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ اس عبادت سے مرادنفلی عبادت،مسجد میں حاضری وغیرہ ہے کہ اگر بندہ بیماری میں یہ نہ کرسکے تو اسے برابر ان کا ثواب پہنچتا رہتا ہے۔اس سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ اگر بندہ سخت بیماری یا غشی کی وجہ سے فرض نماز نہ پڑھ سکا پھر بغیرصحت ہوئے اسی حالت میں اسے موت آگئی تو ان شاءاﷲ پکڑ نہ ہوگی۔اس کی تحقیق کتب فقہ میں ہے۔