۱؎ یہاں بندوں سے مرادہم جیسے گنہگار بندے ہیں کہ ہم کو جوتکلیف پہنچتی ہے وہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہے،اس قاعدے سے بے گناہ بچے،انبیاءاوربعض محفوظ اولیاء علیحدہ ہیں جنہوں نےکبھی گناہ کیا ہی نہیں اور تکلیف و بیماری انہیں بھی آتی ہے،ان بزرگوں کے متعلق گزشتہ احادیث تھیں کہ ان لوگوں کے درجے بڑھانے کے لیے بیماریاں آتی ہیں،لہذا نہ تو یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف ہے اور نہ اس سے آریوں کا آواگون کا مسئلہ ثابت ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں نے پچھلی جون گناہ کئے تھےجس کی سزا اب مل رہی ہے اور نہ یہ حدیث عصمت انبیاء کے خلاف ہے۔اگر نبی بے گناہ ہوتے تو انہیں بیماری و مصیبت کیوں آتی۔غرضکہ اس حدیث کو نہ سمجھ کر بے دینوں نے بہت سے غلط مسائل اس سے نکال لیئے،بعض مفسرین نے فرمایا کہ آیت"وَمَاۤ اَصٰبَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ"میں ایک خاص مصیبت مراد ہے یعنی غزوہ احد میں جوتمہیں مصیبت اور شکست پہنچی وہ تمہاری اپنی غلطی سےتھی کہ تم نے درہ خالی چھوڑ دیا جس سے کفار لوٹ کر تم پر ٹوٹ پڑے۔اس صورت میں آیت بالکل واضح ہے۔
۲؎ یعنی رب تعالٰی تمہاری بہت خطاؤں سے درگزر فرمادیتاہے،بعض پرمعمولی پکڑکرتا ہے وہ بھی تمہیں آگاہ کرنے اور آئندہ احتیاط رکھنے کے لیے،اس پکڑ میں بھی اس کا کرم ہے۔