Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
782 - 993
حدیث نمبر 782
روایت ہے حضرت علی بن زید سے وہ امیہ سے راوی ۱؎ کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے رب کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا کہ خواہ تم اپنے دل کی باتیں ظاہرکرو یا چھپاؤ اﷲ تم سے اس کا حساب لے گا اور اس کے فرمان کے بارے میں جو کوئی گناہ کرے گا اس کا بدلہ دیا جائے گا ۲؎ آپ بولیں کہ جب سے میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا مجھ سے یہ کسی نے نہ پوچھا۳؎ حضور نے فرمایاکہ یہ اﷲ کا بندوں پرعتاب ہے کہ جو اسے بخار یا مصیبت پہنچ جاتی ہے حتی کہ جو مال اپنی قمیص کی آستین میں رکھے پھر اسےگم پائے تو اس سےگھبرا جائے یہاں تک کہ بندہ اپنے گناہوں سے ایسا نکل جاتا ہے جیسے پیلا سونابھٹی سے نکل کر۴؎(ترمذی)
شرح
۱؎ آپ کا نام علی ابن زیدعبدالرحمن ابن جدعان ہے،قریشی ہیں،تیمی ہیں،تابعین بصرہ سےہیں،امیہ تابعین میں سے ایک بی بی ہیں جوحضرت عائشہ سے روایت کرتی ہیں،علی ابن زیدکی دادی ہیں جنہوں نے علی کی ماں کہا مجازًا کہا۔

۲؎ سوال کا مقصد یہ ہے کہ یہ آیات بظاہر معافی کی آیات کےبھی خلاف ہیں اور اس کےبھی کہ اﷲ تعالٰی طاقت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتا،جب ہر خطا کی سزا ہے اور دل کے خیال تک کاحساب ہے تومعافی کیسی۔

۳؎ یعنی تمہاراسوال بہت ہی اچھا ہے اور تم سے پہلے کسی کو یہ سوال نہ سوجھا اچھا ہوا تم نے پوچھ لیا ورنہ آیت کی تفسیر میرے ساتھ ہی جاتی۔

۴؎ خلاصۂ جواب یہ ہے کہ تم سمجھی ہو ہر ظاہروباطن خطاء کا عذاب قیامت میں ہوگا اورکسی خطا کی معافی نہ ہوگی یہ صحیح نہیں بلکہ دنیا میں مؤمن کومعمولی سی تکلیف پہنچ جاتی ہے وہ اس کی خطاء کا عوض بن جاتی ہے۔اﷲ تعالٰی اس کاحساب و عتاب یہاں ہی پورا کردیتا ہے لہذا آیات معافی میں آخرت کی معافی مراد ہے اور عذاب کی نفی ہے اور یہاں دنیا کی تکالیف مراد اور عتاب کا ثبوت ہے لہذا آیات میں تعارض نہیں۔خیال رہے کہ عذاب دشمن کو دیا جاتا ہے اورعتاب دوست پر ہوتا ہے جو غلطی سے جرم کر بیٹھے،نیز یہاں گناہوں سے مرادحقوق اﷲ کے گناہ صغیرہ ہیں،ورنہ شرعی حقوق،یوں ہی بندوں کے حقوق بیماری وغیرہ سے معاف نہیں ہوتے۔حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ مقروض یا بے نماز جب کبھی بیماری سے اٹھے تو گزشتہ قرضے بھی معاف ہوگئے اور نہ پڑھی ہوئی نماز یں بھی،لہذا منکرین حدیث چکڑالوی اس پر اعتراض نہیں کرسکتے۔
Flag Counter