| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ تم میں جو کچھ بیمار ہویا اس کا بھائی بیماری کی شکایت کرے تو کہے ہمارا رب وہ اﷲ ہے جو آسمان میں ہے ۱؎ تیرا نام پاک ہے تیرا حکم آسمان و زمین میں ہے جیسے تیری رحمت آسمان میں ہےیوں ہی اپنی رحمت زمین میں کر۲؎ ہمارے گناہ و خطائیں بخش دے تو پاکوں کا رب ہے۳؎ ہم پر اپنی رحمتوں سے کوئی رحمت اتار اور اپنی شفا میں سے شفا اس درد پر اتارتو وہ اچھا ہوجائے گا۔(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی اﷲ کی بادشاہت وحکومت آسمان میں ہے کیونکہ اﷲ تعالٰی آسمان یا زمین میں ہونے سے پاک ہے۔آسمان وہ جگہ ہے جہاں کسی کی ظاہری حکومت بھی نہیں،نیز وہاں سارے معصوم ہی رہتے ہیں اسی لیے اکثر رب تعالٰی کو آسمان کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ ۲؎ یعنی صدقہ ان فرشتوں کا جنہیں تونے بیماری،آزاری سےمحفوظ رکھا ہے،اس بیمار کو شفاء دے۔اس سے معلوم ہوا کہ نیک مخلوق کے حوالے سے دعاکرنا سنت سے ثابت ہے۔ ۳؎ اﷲ کی ربوبیت عامّہ ساری مخلوق کے لیے ہے مگر ربوبیت خاصّہ صرف پاک لوگوں کے لیےیعنی جسمانی روزی سب کو دیتا ہے،کھانا پینا وغیرہ،روحانی روزی،مغفرت،عرفان و ایمان صرف پاکوں کو،یہی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا حال ہے کہ آپ رَحْمَۃ للعٰلمِین بھی ہیں اور بِالْمُؤمِنِیْنَ رَؤُفٌ الرَّحِیْمبھی لہذا حدیث واضح ہے۔