| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بخار اور تمام دردوں کی یہ دعا سکھاتے تھے کہ کہیں کبریائی والے اﷲ کے نام سے میں ہرخون سے بھری رگ اور آگ کی تپش کی شرارت سے عظمت والے رب کی پناہ مانگتا ہوں ۱؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے،صرف ابراہیم ابن اسمعیل کی حدیث سے پہچانی گئی ہے اور وہ حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں ۲؎
شرح
۱؎ چونکہ بخار میں آگ کی سی تپش ہوتی ہے اور اکثر درد رگ کے جوش اورخون کے دباؤ سے ہوتے،اس لیے خصوصیت سے ان دونوں کی شر سے پناہ مانگی،یہاں شر سے مراد تکلیف ہے،راحت کا مقابل،یہ شرخیر کے مقابل نہیں،مؤمن کی بیماری بفضلہٖ تعالٰی خیر ہوتی ہے،یعنی باعث ثواب لہذا حدیث پر اعتراض نہیں۔ ۲؎ چنانچہ امام قرطُبی نے فرمایا کہ وہ متروک الحدیث ہیں مگر حاکم وبیہقی نے یہ حدیث بروایت صحیح نقل کی۔بہرحال ترمذی کو ضعیف ہوکرملی مگر ان محدثین کوصحیح ملی،اگر ضعیف بھی ہوتی تو فضائل اعمال میں قبول تھی۔