۱؎ اکثر دعاؤں میں آخری تعداد تین بار ہوتی ہے،یہاں سات بار ہے تاکہ بیمار کے ساتویں اعضاء سے بیماری دور ہو،نیز بیماری کا دفیعہ اہم ہے اس لیے تعداد بجائے تین کے سات کردی گئی۔(لمعات)
۲؎ یہ حکم تغلیبی ہے یعنی اکثر شفا ہوگی یامطلب یہ ہے کہ اگر اس عمل کے تمام شرائط جمع ہوں تو بفضلہٖ تعالٰی ضرور شفا ہوگی۔اگرکبھی شفاء نہ ہوتوسمجھو کہ ہماری طرف سے کوئی کوتاہی ہے،اﷲ رسول سچے ہیں۔اس سےمعلوم ہوا کہ موت کا علاج نہیں۔مرقاۃ میں ہے کہ اگر قریب المرگ پر یہ دعا پڑھی جائے تو ان شاءاﷲ اس کی جان کنی آسان ہوگی اورایمان پرخاتمہ نصیب ہوگا۔غرضکہ دعارائیگاں نہ جائے گی،شفائے ظاہر نہ ہو تو شفائےباطن ہوگی۔