Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
778 - 993
حدیث نمبر 778
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کی بیمار پرسی کرے تو سات بار کہہ دے ۱؎ کہ میں عظمت والے اورعرش عظیم کے رب یعنی اﷲ سے دعاکرتا ہوں کہ تجھے شفا دے مگر اسے شفا ہوگی لیکن یہ کہ اس کی موت ہی آگئی ہو۲؎(ابوداؤد،ترمذی)
شرح
۱؎ اکثر دعاؤں میں آخری تعداد تین بار ہوتی ہے،یہاں سات بار ہے تاکہ بیمار کے ساتویں اعضاء سے بیماری دور ہو،نیز بیماری کا دفیعہ اہم ہے اس لیے تعداد بجائے تین کے سات کردی گئی۔(لمعات)

۲؎ یہ حکم تغلیبی ہے یعنی اکثر شفا ہوگی یامطلب یہ ہے کہ اگر اس عمل کے تمام شرائط جمع ہوں تو بفضلہٖ تعالٰی ضرور شفا ہوگی۔اگرکبھی شفاء نہ ہوتوسمجھو کہ ہماری طرف سے کوئی کوتاہی ہے،اﷲ رسول سچے ہیں۔اس سےمعلوم ہوا کہ موت کا علاج نہیں۔مرقاۃ میں ہے کہ اگر قریب المرگ پر یہ دعا پڑھی جائے تو ان شاءاﷲ اس کی جان کنی آسان ہوگی اورایمان پرخاتمہ نصیب ہوگا۔غرضکہ دعارائیگاں نہ جائے گی،شفائے ظاہر نہ ہو تو شفائےباطن ہوگی۔
Flag Counter