۱؎ یہ وہی بنی اسرائیل تھے جن سے کہا گیا تھا کہ تم توبہ کے لیے بیت المقدس میں سجدہ کرتے ہوئے جاؤ تو وہ گھسٹتے ہوئے گئے تھے،انہیں پر طاعون بھیجا گیا جس سے ایک ساعت میں چوبیس ہزار ہلاک ہوگئے،رب تعالٰی فرماتا ہے:" فَاَرْسَلْنَا عَلَیۡہِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ"۔اس سے معلوم ہوا کہ محبوبوں کے شہروں کی بے ادبی کرنے پر عذاب الٰہی آجاتا ہے۔
۲؎ کیونکہ یہ ایک بلاء ہے اور بلاء میں خود جانانہیں چاہیے اور جب آجائے تو گھبرانا نہیں چاہیے۔خیال رہے کہ بلاء سے فرار نہیں بچاتا بلکہ استغفار بچاتا ہے۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ اگر کوئی طاعون کی جگہ سےکسی ضرورت کے لیے باہر جائے مضائقہ نہیں،بھاگنے کی نیت سے نکلنا گناہ ہے۔