| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ وہ ایک عذاب ہے اﷲ جس پر چاہے بھیجے ۱؎ البتہ رب نے اسے مسلمانوں کے لئے رحمت بنادیا ایسا کوئی نہیں کہ جس کے شہرمیں طاعون پھیلے وہ وہاں صبرکرکے اجر کے لئے ٹھہرے یہ جانتے ہوئے کہ اسے وہی پہنچے گا جو اﷲ نے اس کے لیئے لکھا مگر اسے شہید کا سا ثواب ہوگا ۲؎(بخاری)
شرح
۱؎ یعنی طاعون کفار پر عذاب ہے جو کافر اس میں مرے گا وہ عذاب کی موت مرے گا۔ ۲؎ یعنی یہ صابر خواہ طاعون میں فوت ہوجائے یا نہیں جب بھی مرے گا اسے درجۂ شہادت ملے گا،گویا طاعون میں صبر شہادت کے اجر کا باعث ہے جیسے کہ روایات میں ہے کہ جو تا جر باہر سے غلہ لاکر فروخت کیا کرے تاکہ شہر کا قحط دور ہو جب مرے گا جیسے مرے گا شہید ہوگا،یونہی طالب علم اور مؤذن۔