| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ رب تعالٰی فرماتاہے جب میں اپنےکسی بندے کو اس کی دو پیاری چیزوں یعنی آنکھوں میں مبتلا کر دوں ۱؎ پھر وہ صبرکر جائے تو میں انکے عوض اسے جنت دوں گا۔(بخاری)
شرح
۱؎ اس طرح کہ اسے اندھاکردوں یا اس کی بینائی ایک دم کمزورکردوں،بعض روایتوں میں ایک آنکھ کابھی ذکر ہے،ایسے شخص کو چاہیے کہ اس مصیبت پر ان انبیاء،اولیاء کے حالات میں غور کرے جونابیناہوکر صابروشاکر تھے،سیدنا عبداﷲ ابن عباس آخری عمر میں نابینا ہوگئے تو یہ پڑھا کرتے تھے۔شعر اِنْ یَذْھَبَ اﷲُ مِنْ عَیْنِیْ نُوْرَھُمَا فَفِیْ لِسَانِیْ وَقَلْبِیْ لِلْھُدیٰ نُوْرٌ یعنی اگر میری آنکھ کی روشنی جاتی رہی تو کیا ہوا،میری زبان اور دل میں تو ہدآیت کا نور ہے۔