۱؎ شہید کے معنی ہیں گواہ یا حاضر،چونکہ قیامت میں شہید سرکاری گواہ ہوگا،نیز وہ اپنے خون سے توحید و رسالت کی گواہی دیتاہے اور یہ مرتے ہی بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوتا ہے اور اس کی جان کنی پر رحمت کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں،ان وجوہ سے اسے شہید کہتے ہیں۔شہیدحقیقی وہ ہے جو ظلمًا قتل ہو۔اور شہیدحکمی وہ جنہیں شہادت کا ثواب دے دیا جائے،شہید حکمی قریبًا ۸۰ہیں جس میں سے یہاں پانچ کا ذکرہے:جو طاعون کی بیماری میں صابرہوکرمرے وہ شہیدہے،جوپیٹ کی بیماری دست وغیرہ میں مرے،اتفاقیہ ڈوب جائے،اونچے سےگر جائے یا عمارت میں دب جائے یہ سب حکمی شہید ہیں۔دیدہ دانستہ دریا میں ڈوبنے والے یا اوپر سےکودنے والے حرام موت مریں گے شہید نہ ہوں گے،اس جگہ مرقاۃنے شہادت کی بہت سی قسمیں بیان فرمائیں۔