۱؎ اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ مؤمن خوشی سے مرتا ہے اورمنافق جبرًا موت دیاجاتاہے،موت ایک ریل ہے جو دولہا کو سسرال تک پہنچاتی ہے اورپھانسی کے مجرم کو پھانسی تک مؤمن کی دنیوی تکلیفیں آخرت کی راحت کا سبب ہیں،منافق کی دنیوی راحتیں آخرت کی مصیبتوں کا ذریعہ،یہ بھی قاعدہ اکثریہ ہے،ورنہ مؤمن دنیا میں کتنا ہی آرام سے رہے ان شاءاﷲ آخرت کے دائمی عذاب سے بچے گا،کافر دنیا میں کتنی ہی مصیبت سے رہے مگر آخرت میں نجات نہیں پاسکتا۔روح البیان میں ایک جگہ فرمایا کہ ایک مصیبت زدہ کافر نے کسی عیش والے مؤمن سے کہا کہ تمہارے نبی نے فرمایا ہے دنیا مؤمن کی جیل ہے اور کافر کی جنت مگر یہاں تم جنت میں ہو اورمیں جیل میں،انہوں نے فورًا جواب دیا کہ تو آخرت کی مصیبتوں کو دیکھ کر دنیا کی ان تکالیف کو جنت سمجھے گا اور ہم راحتوں کو دیکھ کر یہاں کی عیش کوجیل سمجھتے ہیں اورسمجھیں گے،نیز ہم ان عیشوں میں دل نہیں لگاتے،جیل اگرچہ اے کلاس ہو مگر جیل ہے اور تم یہاں سے جانا نہیں چاہتے،ہمارے نبی کی حدیث بالکل صحیح ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم۔