Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
768 - 993
حدیث نمبر 768
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام السائب کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ تمہیں کیا ہوا کہ کانپ رہی ہو،بولیں بخار ہے اس کا ستیاناس ہو فرمایا بخارکو برا نہ کہو وہ تو انسان کی خطائیں ایسے دورکرتا ہے جیسےبھٹی لوہے کے میل کو ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ اور بیماریاں ایک یا دوعضو کو ہوتی ہیں مگر بخار سر سے پاؤں تک ہر رگ میں اثرکرتا ہے،لہذا یہ سارے جسم کی خطاؤں اور گناہوں کو معاف کرائے گا۔امام سیوطی نے ایک کتاب لکھی کشف الغمہ فی اخبار الحمی،اس میں بروایت حسن مرفوعًا نقل کیا کہ ایک رات کا بخار تمام خطائیں معاف کرادیتا ہے،حضرت ابوالدرداء فرماتے ہیں کہ مؤمن کا ایک رات کا بخار ایک سال کا کفارہ ہے،حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ بخارجہنم کی بھٹی ہے اﷲ تعالٰی اس کی وجہ سے مؤمن کو جہنم سے بچاتاہے،حضرت ابی ابن کعب نے دعا مانگی تھی کہ خدایا مجھے ایسا بخارنصیب کر جوتیری راہ میں چلنے،تیرے گھر آنے اورتیرے نبی کی مسجد تک پہنچنے سے نہ روکے۔چنانچہ آپ کو ہمیشہ ہلکا بخار رہتا تھا اور اسی حال میں مسجد وغیرہ جایاکرتے تھے۔(مرقاۃ)امام اہل سنت اعلیٰ حضرت مولانا احمدرضا خاں صاحب بریلوی فرماتے ہیں کہ الحمدﷲ مجھے بھی ہمیشہ ہلکا بخار رہتا ہےمگر اس حالت میں اعلیٰ حضرت نے دین کی وہ خدمتیں کیں کہ سبحان اﷲ!
Flag Counter