| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمن کی مثال کچی کھیتی کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی ہیں کبھی گرادیتی ہیں کبھی سیدھاکرتی ہیں یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے اورمنافق کی مثال مضبوط صنوبر کی سی ہے جسےکوئی آفت نہیں پہنچتی حتی کہ یکبارگی اس کا اکھڑنا ہوتاہے ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی مسلمان کی زندگی بیماریوں،مصائب وتکالیف میں گھری ہوتی ہے جن پر وہ صبرکرکے گناہوں سے پاک و صاف ہوتا رہتا ہے،منافق و کافر کی زندگی آرام و آسائش سےگزرتی ہے جس سے اس کی غفلتیں بڑھ جاتی ہیں پھر یکبارگی ہی موت آتی ہے۔یہ قاعدہ اکثریہ ہے کلیہ نہیں،بعض کافر اکثر بیمار رہتے ہیں اور بعض مؤمن کم بیمار ہوتے ہیں،نیز بعض غافل بیمار ہوکر اور زیادہ غافل بلکہ بے ادب ہوجاتے ہیں،رب کو گالیاں دیتے ہیں اوربعض مؤمن تندرستی میں ایک سانس ذکر الٰہی کے بغیر نہیں لیتے مگر ایسا بہت کم ہے لہذا اس حدیث پرکوئی اعتراض نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بالکل برحق ہے۔