۱؎ اس طرح کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا جسم شریف آپ کے جسم پر تھا،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ آپ کے سینہ پر اور سر مبارک گلے کے پاس۔سبحان اﷲ!غار ثور میں صدیق اکبر کو یہ شرف حاصل ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک آپ کے زانو پر تھا اور بوقت وفات اس طیبہ،طاہرہ،عفیفہ،صدیقہ کو یہ عزت ملی،قرآن کی رحل بھی عزت والی ہے،ان حضرات کے جسم قرآن والے کی رحل ہیں،ان کی عزتیں قیامت میں دیکھنا۔
۲؎ یعنی پہلے میرا یہ خیال تھا کہ نزع کی تکلیف گناہوں کی زیادتی سے ہوتی ہے اور موت کی آسانی رب کی نعمت ہے مگر جب سے میں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شدت نزع دیکھی تب سے یہ دونوں خیال جاتے رہے۔خیال رہے کہ اﷲ تعالٰی نے بیماریوں اور وفات کی تکلیفوں کو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم پر اس لیے زیادہ کیا کہ قیامت تک آپ کے مصیبت زدہ امتی آپ کے ان حالات کو سن کرتسلی پائیں۔مبارک ہیں وہ رسول جن کی بیماری بھی تبلیغ اور امت کے لیے ذریعۂ رحمت ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔