روایت ہےحضرت مخنف بن سلیم سےفرماتےہیں کہ ہم رسول اﷲ کے ساتھ عرفہ میں ٹھہرے تھے کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا اے لوگوں ہرگھر والے پر ہر سال ایک قربانی ہے اور ایک عتیرہ فرمایا کیا جانتے ہوعتیرہ کیا ہے یہ وہی ہے جسے تم رجبیہ کہتے ہو ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)اورترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے،اسناد ضعیف ہے۲؎ اور ابوداؤدنے فرمایا کہ عتیرہ منسوخ ہے۔
شرح
۱؎ اس حدیث سےمعلوم ہورہا ہے کہ عتیرہ قربانی کی طرح واجب ہے،قربانی سےمنسوخ ہواکیونکہ حجۃ الوداع کےبعد کوئی اسلامی حکم منسوخ نہیں ہوا،لیکن یہ حدیث بالکل ضعیف ہے،نیز احادیث صحیحہ کے مخالف ہے۔ابھی مسلم،بخاری کی حدیث گزر چکی کہ نہ فرع ہے نہ عتیرہ بلکہ ہرگھر والے پر تو قربانی بھی واجب نہیں،وہ بھی امیروں پر ہی واجب ہے۔اور اس سےمعلوم ہورہا ہے کہ ہر ایک پر واجب ہے۔ ۲؎ کیونکہ مخنف ابن سلیم سے روایت کرنے والے صرف ابورملہ ہیں اور وہ محدثین کے نزدیک بالکل مجہول ہیں،عتیرہ کے متعلق ابوداؤد وغیرہ میں روایات ہیں جن سے اس کا جواز معلوم ہوتا ہے۔