روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا نہ فرع ہے نہ عتیرہ ۱؎ فرماتے ہیں کہ فرع وہ پہلا بچہ تھا جانور کا جو ان کے ہاں پیدا ہوتا جسے اپنے بتوں کے لیے ذبح کرتےتھے اورعتیرہ رجب میں تھا ۲؎(مسلم،بخاری)
۱؎ یعنی اسلام میں فرع توبالکل حرام ہے اورعتیرہ کا ثواب نہیں کیونکہ فرع تو بتوں کے لیے ہی ذبح ہوتا تھا مگر عتیرہ کفار بتوں کے لیے کرتے تھے،مسلمان اﷲ کے لیے۔فرع کی تفسیرخودحدیث میں آگے آرہی ہے۔
۲؎ جسےکفاربتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اوراس کا خون بتوں پر ملتے تھے اورمسلمان اﷲ کے لیئے لہذا فرع اسلام میں کبھی نہیں ہوا،عتیرہ پہلے تھا اور بعدمیں منسوخ ہوگیا۔حضرت نبیشہ فرماتےہیں کہ کسی شخص نےحضورصلی اللہ علیہ وسلم سےعتیرہ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ جس مہینہ میں چاہو اﷲ کے لیے ذبح کرو اﷲ کے لیے کھلاؤ۔ابن سیرین رجب میں جانور ذبح کرتے تھے۔(مرقاۃ)معلوم ہوا کہ اس کا وجوب یا سنیت منسوخ ہے،اباحت باقی ہے۔