روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مجھے بقرعید کے دن عیدمنانے کاحکم ملاجسے اﷲنے اس امت کے لیے مقرر کیا ۱؎ ایک شخص نے آپ سے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایئے تو اگر میں عاریۃ کا مادہ جانور ہی پاؤں تو کیا اس کی قربانی کردوں فرمایا نہیں۲؎ لیکن اپنے بال اور ناخن کتراؤ مونچھیں کٹاؤ زیر ناف کے بال صاف کرو تمہاری یہی مکمل قربانی ہے۳؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ کہ اس دن لوگ کپڑے بدلیں،خوشبوئیں ملیں،نماز بقرعید پڑھیں اورخوشیاں منائیں اورقربانیاں کریں۔خیال رہے کہ یہ سارے احکام حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ساری امت کے لیے ہیں سوائے نماز بقرعید کے کہ وہ گاؤں والوں کے لیے نہیں مگر اس کا خوشی کا دن ہونا سب کے لیے ہے لہذا یہ جملہ بالکل صحیح ہے اس میں کسی قسم کی تاویل کی ضرورت نہیں۔ ۲؎ منیخہ منخ سے بنا،بمعنی دینا۔اب اصطلاح میں منیخہ وہ جانورکہلاتا ہے جو کچھ دنوں کے لیےکسی کو عاریۃً دے دیاجائے تاکہ وہ اسے چارہ بھی کھلائے اور اس کے دودھ،اون سے فائدہ بھی اٹھائے،پھر مالک کو واپس کردے،چونکہ یہ شخص غریب بھی ہے اور یہ جانور بھی اس کا اپنا نہیں دوسرے کا ہے اس لیے اس کی قربانی سے منع کردیا گیا۔ ۳؎یعنی غریب آدمی اس عشرہ میں حجامت نہ کرائے،بقرعید کے دن بعدنمازعیدحجامت کرائے تو ان شاء اﷲ قربانی کا ثواب پائے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ قربانی صرف امیروں پر ہے غریبوں پرنہیں،یہ حدیث گزشتہ قربانی کی احادیث کی شرح ہے۔خیال رہے کہ صاحب مشکوٰۃ اس حدیث کوعتیرہ کے باب میں لائے تاکہ پتہ لگے کہ عتیرہ کوئی شے نہیں کیونکہ سرکار نے سائل سے یہ فرمایا کہ تو قربانی تو نہ کر اور اگر رجب تک تیرے پاس مال آجائے تو عتیرہ کردینا۔