| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا یارسول اﷲ یہ قربانیاں کیاہیں فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ۱؎ عرض کیا کہ ان میں ہمیں کیا ملے گافرمایا ہربال کےعوض نیکی عرض کیا کہ اون یارسول اﷲ تو فرمایا کہ اون کے ہربال کےعوض نیکی ۲؎(احمد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ جس کی ابتداءفرزند کے ذبح سے ہوئی اور آپ آخر تک کرتے رہے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال طیبہ کو سنت کہتےہیں اورگزشتہ انبیاء کے طریقہ کو فطرت لہذا قربانی سنت و فطرت ہے۔ ۲؎ پوچھنے والوں کوخیال یہ ہواکہ اون کے بال توبہت زیادہ ہوتے ہیں،اتنی نیکیاں ایک قربانی میں کیسےمل جائیں گی۔جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ دینے والا بڑا کریم ہے،وہ اپنے کرم سے اس سےبھی زیادہ دے توکون اسے روک سکتا ہے۔اس سےبھی معلوم ہوا کہ قربانی کی بجائے قیمت یابازارسے گوشت خریدکرخیرات نہیں کرسکتےکیونکہ پھرثواب کے لیے بال کہاں سے آئیں گے۔