| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تین کام وہ ہیں جو کسی کو کرنا جائز نہیں ایسا شخص قوم کی امامت ہرگز نہ کرے کہ دعا میں اپنے آپ کو خاص کرے انہیں چھوڑ کر ۱؎ اگر ایسا کیا تو ان کی خیانت کی اور اجازت سے پہلے کسی گھر میں نہ جھانکے اگر ایسا کیا تو ان کی خیانت کی ۲؎ اور پیشاب پاخانے سے بھاری آدمی نماز نہ پڑھے حتی کہ ہلکا ہوجائے۔(ابوداؤد)ترمذی نے اس کی مثل ۔
شرح
۱؎ یعنی نماز کے بعد صرف اپنے لئے دعا کرے یا اس طرح کہ صاف کہے کہ خدایا مجھ پر رحم کر نہ کہ کسی اور پر یا اس طرح کہ ساری دعاؤں میں واحد متکلم کا صیغہ استعمال کرے کوئی صیغہ جمع کا نہ بولے،امام کے لیے یہ دونوں کام سخت منع ہیں ہاں اگر بعض دعائیں جمع کے صیغہ سے مانگے اور بعض واحد کے صیغہ سے تو مضائقہ نہیں(مرقاۃ)لہذا اگر ایک دعا بھی جمع کے صیغہ سے مانگی باقی واحد کے صیغوں سے تو حرج نہیں چنانچہ امام یہ دعا مانگ سکتا ہے "اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ"یا یہ دعا "اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ حُبَّكَ"الخ کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعائیں سکھائی ہیں اور منقول دعاؤں میں الفاظ کی پابندی ہوتی ہے۔خیا ل رہے کہ امام ساری قوم کی نمازوں اور دعاؤں کا امین ہے اسی لیے ایسے امام کو خائن کہا گیا۔ ۲؎ گھر سے مراد عام گھر ہیں خواہ اس میں آدمی رہتے ہوں یا کسی کا سامان موجود ہو۔