| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی آیت پڑھتے تو ہم آپ کے پاس ہوتے تو آپ اور ہم آپ کے ساتھ سجدہ کرتے بھیڑ لگ جاتی حتی کہ ہم میں کوئی اپنی پیشانی کے لیے جگہ نہ پاتا کہ جس پر سجدہ کرے ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہاں سجدہ پڑھنے سے مراد سجدے کی آیت پڑھنا ہے یا سجدے کے لفظ کے ساتھ آگے پیچھے کے لفظ بھی پڑھنا ورنہ فقط سجدے کا لفظ پڑھ لینے سے سجدہ واجب نہیں ہوتا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سجدہ آیتِ سجدہ پڑھنے سے بھی واجب ہوتا ہے اور سننے سے بھی اور یہ کہ سجدہ بڑا اہم ہے کہ صحابہ کرام بھیڑ لگا کر یہ سجدہ کیا کرتے تھے اس سے مذہب حنفی کو قوت پہنچتی ہے۔