۱؎ سنت یہی ہے کہ وضو گھر سے کرکے مسجد کو جائے،بہتر یہ ہے کہ درود شریف پڑھتا ہوا جائے۔
۲؎ یعنی یہ شخص حکمًا نماز میں ہے اسی لیے اس حالت میں نماز کا ثواب پارہا ہے اور نماز میں تو یہ کام منع ہے کیونکہ یہ ایک قسم کا کھیل اور عبث ہے اس لیے اب بھی یہ نہ کرے یہ ایسا ہے جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اعتکاف نماز ہے لہذا باوضو کرو اور اس میں دنیوی کام نہ کرو لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ نماز کے سارے ممنوعات اس وقت منع ہوجائیں خارج نماز کبھی کبھی یہ کام کرلینا جائز ہمیشہ کرنا بہتر نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کبھی کوئی بات سمجھانے کے لیئے انگلیوں میں تشبیک فرمائی ہے۔