۱؎ ہر جمائی شیطان کے اثر سے ہے نماز میں ہو یا باہر مگر چونکہ نماز میں زیادہ بری ہے اس لیے خصوصیت سے اس کا ذکر فرمایا۔جمائی غفلت سے،سستی سے،زیادہ کھانے اور نیند کے غلبہ سے ہوتی ہے اور ان سب میں شیطان کا اثر ہے لہذا یہ فرمانا بالکل حق ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ رب تعالٰی چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند اسی لیے چھینک پر الحمدﷲ پڑھی جاتی ہے اور جمائی پر لاحول،انبیاء کرام جمائی سے محفوظ ہیں۔
۲؎ یعنی اگر جمائی دفع نہ ہوسکے تو بائیں ہتھیلی کی پشت پھیلے ہوئے منہ پر رکھے۔دفع کرنے کی صورتیں عرض کی جاچکیں۔