Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
214 - 993
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر214
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم حبشہ جانے سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے حالانکہ آپ نماز میں ہوتے تو آپ ہم کو جواب دیتے تھے پھر جب ہم حبشہ سے لوٹے تو میں آپ کی خدمت میں آیا آپ کو نماز پڑھتے پایا میں نے آپ کو سلام کیا تو مجھے آپ نے جواب نہ دیا حتی کہ جب اپنی نماز پوری کی تو فرمایا اﷲ اپنے احکام میں جو چاہے نئے حکم دے اب جو نیا حکم بھیجا اس میں یہ ہے کہ نماز میں کلام نہ کرو پھر آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا ۱؎
شرح
۱؎ یہ سلام کا جواب استحبابًا تھا تاکہ حضرت ابن مسعود کا دل خوش ہوجائے ورنہ اگر کوئی نمازی کو،تلاوت قرآن کرنے والے کو یا قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کرے تو ان پر جواب دینا واجب نہیں کیونکہ ان حالتوں میں سلام کرنا سنت نہیں،مسنون سلام کا جواب واجب ہے نہ کہ ممنوع سلام کا،لیکن اگر فراغت کے بعد جواب دے دیا جائے تو بہتر ہے(لمعات)اس سے بہت سے مسائل مستنبط ہوسکتے ہیں۔
Flag Counter