۱؎ یعنی اگر نمازی کو کوئی ایسا حادثہ پیش آجائے جس سے اسے بولنا پڑے مثلًا اسے کوئی پکار رہا ہے یا کوئی بے خبری میں سامنے سے گزرنا چاہتا ہے تو مرد تو زور سے سبحان اﷲ کہہ دے اور عورت بائیں ہاتھ کی پشت پر داہنی ہتھیلی مار دے تاکہ پکارنے والے اور گزرنے والے کو اسکا نماز میں ہونا معلوم ہوجائے۔اس سے معلوم ہوا کہ عورت کی آوا ز بھی عورت ہے نامحرم نہ سنے افسوس ان عورتوں پر جو گابجا کر اپنی آواز یں غیروں کو سنائیں۔خیال رہے کہ اگر نمازی عورت کا محرم بھی اسے پکارے یا سامنے سے گزرنے لگے تب بھی عورت تالی ہی بجائے کیونکہ اس کے لیئے قانون ہی یہ ہوگیا۔