Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
16 - 993
حدیث نمبر 16
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اسے اپنے بھائی کے سامنے گزرنے میں نماز کا راستہ کاٹتے ہوئے کیا  گناہ ہے تو سو سال ٹھہرے رہنا اس کے لیے اس ایک قدم ڈالنے سے بہتر ہوتا ۱؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎  یہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے جہاں صرف چالیس کا ذکر تھا سال یا مہینے کا ذکر نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ وہاں بھی سال ہی مراد تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازی کے سامنے بیٹھا رہنا یا آکر بیٹھ جانا یا بیٹھے سے اٹھ جانا سیدھا سامنے چلا جانا منع نہیں بلکہ سامنے کی سمت کاٹ کر گزرنا منع ہے،یعنی ہمارے ملک میں جنوبًا شمالًا جانا جیسا کہ معترضًا سے معلوم ہوا۔البتہ اگر کوئی شخص نمازی کے آگے آکر بیٹھ جائے پھر کچھ ٹھہرکر دوسری جانب اٹھ جائے تو مکروہ ہے بلکہ ادھر ہی کو جائے جدھر سے آیا تھا۔حدیث کا مطلب بالکل ظاہر ہے انسان کو چاہیے کہ نمازی کے آگے سے ہرگز نہ گزرے۔
Flag Counter