۱؎ یہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے جہاں صرف چالیس کا ذکر تھا سال یا مہینے کا ذکر نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ وہاں بھی سال ہی مراد تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازی کے سامنے بیٹھا رہنا یا آکر بیٹھ جانا یا بیٹھے سے اٹھ جانا سیدھا سامنے چلا جانا منع نہیں بلکہ سامنے کی سمت کاٹ کر گزرنا منع ہے،یعنی ہمارے ملک میں جنوبًا شمالًا جانا جیسا کہ معترضًا سے معلوم ہوا۔البتہ اگر کوئی شخص نمازی کے آگے آکر بیٹھ جائے پھر کچھ ٹھہرکر دوسری جانب اٹھ جائے تو مکروہ ہے بلکہ ادھر ہی کو جائے جدھر سے آیا تھا۔حدیث کا مطلب بالکل ظاہر ہے انسان کو چاہیے کہ نمازی کے آگے سے ہرگز نہ گزرے۔