۱؎ آپ قبلہ کی طرف پاؤں نہیں پھیلاتی تھیں کہ وہ منع ہے بلکہ آپ کے پاؤں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قبلہ کی طرف ہوتے تھے۔ اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نماز میں تھوڑا عمل جائز ہے ۔دوسرے یہ کہ عورت کو چھونا وضو نہیں توڑتا اگرچہ بغیر آڑ کے ہو کیونکہ یہاں آڑ کی قید نہیں آئی۔ تیسرے یہ کہ عورت کا نمازی کے آگے ہونانماز خراب نہیں کرتا،لہذا یہ حدیث حنفیوں کی دلیل ہے۔
۲؎ یہ بالکل ابتدائی حالت کا ذکر ہے جب کہ ضرورت کے وقت لکڑیاں جلا کر روشنی کی جاتی تھی بعد میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چراغ رائج ہوگئے تھے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک چوہا چراغ کی جلتی بتی کھینچ کر لے گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چراغ گل کرکے سویا کروکیونکہ چوہا اس کے ذریعے گھرمیں آگ لگادیتا ہے لہذا یہ حدیث چراغ والی احادیث کے خلاف نہیں۔
؎ یعنی جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کا قیام و رکوع فرماتے ہیں اطمینان سے پاؤں پھیلائے سوئی رہتی اور جب حضور کے سجدہ کا وقت ہوتا تو مجھے دبا کر اشارہ کردیتے جب میں پاؤں سمیٹتی تب سجدہ کے لیے جگہ بنتی اور آپ سجدہ کرتے۔