۱؎ یعنی جب نماز کا وقت مستحب آجائے تودیر مت لگاؤ،لہذا یہ حدیث نہ تو حنفیوں کے خلاف ہے نہ شوافع کی تائید،نہ دوسری احادیث سے متعارض کیونکہ عشاء سب کے نزدیک دیر سے ہی پڑھناچاہئے۔
۲؎ اَیِّم اصل میں اَیْوَمْتھا واؤ،ی ہوکر ی میں مدغم ہوگیا۔اَیِّم بے خاوندوالی بالغہ عورت کو کہتے ہیں کنواری ہویابیوہ،یعنی جب لڑکی کے لئے مناسب رشتہ مل جائے تو بلاوجہ دیرمت لگاؤ کہ اس میں ہزار ہافتنہ ہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ اگر وقت مکروہ میں جنازہ آئے تب بھی اس پرنماز پڑھ لیجائے یہی حنفیوں کا مذہب ہے۔ممنوع یہ ہے کہ جنازہ پہلے تیارہومگرنمازوقت مکروہ میں پڑھی جائے،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضور نے سورج نکلتے،ڈوبتے اوربیچ دوپہری میں نمازجنازہ سے منع فرمایا۔