| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوں اورانہیں نماز پر مارو جب وہ دس سال کے ہوں ۱؎ اور علیحدگی کردو ان کے درمیان خوابگاہ ہوں میں۲؎ (ابوداؤد)یوں ہی اسے شرح سنہ میں انہی سے روایت کیا اورمصابیح میں ابن معبد سے۔
شرح
۱؎ ان عمروں میں اگرچہ ان پر نماز فرض نہیں کہ وہ نابالغ ہیں لیکن عادت ڈالنے کے لئے انہیں ابھی سے نمازی بناؤ،چونکہ دس سال کی عمر میں بچے کو سمجھ بوجھ کافی ہوجاتی ہے اس لئے مارنے کا بھی حکم دیا،چونکہ نماز زیادہ اہم ہے اس لیے اس ہی پر مارو وغیرہ کا حکم دیا گیا۔مُرُوْا سے معلوم ہوا کہ بچے کو سات سال سے پہلے بھی رغبت دی جائے مگر اس کا حکم سات سال کی عمر میں۔ ۲؎ یعنی بہن بھائیوں کو علیحدہ بستروں پر سلاؤ کہ اب وہ مراہق یعنی قریب بلوغ ہوگئے۔