۱؎ حکم والوں سے خلیفۃ المسلمین،اسلامی حکام،علمائے دین سب ہی مرادہیں۔اطاعت سے مراد ان کے جائز احکام میں فرمانبرداری کرناہے،خلاف شرع حکم کی اطاعت لازم نہیں،چونکہ رمضان کے روزے صرف اسی امت پر فرض ہوئے اس لیئے شَہْرُکُمْ فرمایا،زکوۃ روزے کے بعدفرض ہوئی اس لئے اس کا ذکربھی روزے کے بعدہوا۔
۲؎ اعمال کی نسبت بندوں کی طرف کی اور جنت کی رب کی طرف تاکہ خریدوفروخت کے معنی ظاہر ہوں،فرماتا ہے: "اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی"۔خیال رہے کہ مختلف احادیث مختلف اوقات کی ہیں جس زمانہ میں کوئی عبادت نہ آئی تھی تب فرمایا گیا جس نے کلمہ پڑھ لیاجنتی ہوگیا جب نمازآگئی تونمازہی پرجنت کا وعدہ فرمایا گیا اورجب زکوۃ روزے وغیرہ بھی آگئے تب جنتی ہونے کے لئے ان اعمال کی بھی قید لگی،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔