| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمرابن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ انہیں رات میں جنابت پہنچتی ہے ۱؎ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کرو عضو خاص دھولو پھرسوجاؤ۲؎(بخاری ومسلم)
شرح
۱؎ تو کیا اس وقت غسل کروں یا صبح کو،وہ سمجھے یہ تھے کہ شاید فورًا غسل واجب ہے اور کبھی فورًا غسل دشوار ہوتا ہے۔ ۲؎ یہ حکم استحبابی ہے کیونکہ وضو کرکے سونا سنت مستحبہ ہے بغیر وضو سونا نہ حرام ہے نہ مکروہ۔(مرقاۃ وغیرہ)