روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ملے ۱؎ حالانکہ میں ناپاک تھا آپ نے میرا ہاتھ پکڑلیا ۲؎ میں آپ کے ساتھ چلاحتی کہ آپ بیٹھ گئے میں چپکے سے نکل گیامنزل میں آیاغسل کیا پھر حاضر ہوا حالانکہ آپ تشریف فرما تھے۳؎ فرمایا اے ابوہریرہ کہاں تھے؟ میں نے واقعہ عرض کیا فرمایا سبحان اﷲ!مؤمن گندہ نہیں ہوتا۴؎ یہ بخاری کے لفظ ہیں مسلم کی روایت میں اس کے معنی ہیں اور قُلْتُ کے بعد یہ بھی ہے کہ آپ مجھے ملے حالانکہ میں جنبی تھا میں نے غسل کے بغیر آپ کے پاس بیٹھنا ناپسند کیا۵؎ بخاری کی دوسری روایت میں ایسے ہی ہے۔
۱؎ یہ نہ فرمایا کہ میں حضور سے ملا کیونکہ آپ کا ارادہ ملنے کا نہ تھا اتفاقًا ملاقات ہوگئی،آپ تو غسل کرنے جارہے تھے۔
۲؎ محبت اورشفقت کی بنا پر نہ کہ چلنے میں امداد لینے کے لیے جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا۔
۳؎ یہ ہے صحابہ کا انتہائی ادب،اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا خیال یہ تھا کہ ناپاکی کی حالت میں مصافحہ وغیرہ سب ممنوع ہے مگر حیاء اور ادب کی وجہ سے اس وقت عرض نہ کرسکے،خیال تھا کہ بعد میں مسئلہ پوچھ لوں گا چونکہ اس کے ناجائز ہونے کا یقین نہ تھا،اس لئے خاموشی اختیار کی۔
۴؎ یعنی جنابت نجاست حقیقیہ نہیں تاکہ جنبی سے مصافحہ وغیرہ منع ہو۔خیال رہے کہ کافر بھی نجس نہیں قرآن کریم میں جو مشرکوں کو نجس فرمایا گیا اس سے گندگی اعتقاد مراد ہے۔اس حدیث سے چند مسائل معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جنبی کا پسینہ یا جھوٹا نجس نہیں۔دوسرے یہ کہ غسل جنابت میں دیر لگانا جائز ہے۔تیسرے یہ کہ جنابت کی حالت میں ضروری کام کاج کرنا جائز ہے۔چھوتھے یہ کہ جنبی سے مصافحہ،معانقہ بلکہ اس کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا جائز۔
۵؎ احتیاطًا یہ سمجھے ہوئے کہ شاید جنبی پر نجس حقیقی کے احکام جاری ہوں۔