روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو تری تو پائے اور خواب یاد نہ ہو فرمایا غسل کرے اور اس کے بارے میں پوچھا گیا جو خیال کرے کہ اسے احتلام ہوا ہے اور تری نہ پائے فرمایا اس پر غسل نہیں ۱؎ ام سلیم نے عرض کیا کہ کیا عورت پر بھی غسل ہے جو یہ دیکھے فرمایا ہاں عورتیں مردوں کی مثل ہیں۲؎ اسے ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ا وردارمی اور ابن ماجہ نے "لَاغُسْلَ عَلَیْہ" تک روایت کی۔
شرح
۱؎ کیونکہ احتلام میں منی کا نکلنا غسل واجب کرتا ہے خواب یاد ہو نہ ہو۔تری مطلق غسل واجب کردے گی اگرچہ مذی ہو کیونکہ کبھی پتلی منی مذی ہی محسوس ہوتی ہے،یہی ہمارا مذہب ہے،یہ حدیث ہماری دلیل ہے۔ ۲؎ یعنی اکثر احکام عورتوں مردوں کے یکساں ہیں اسی لئے قرآن و حدیث میں مذکر کے صیغے استعمال ہوتے ہیں اور عورتیں اس میں داخل ہوتی ہیں۔شقائق جمع شقیقہ کی ہےبمعنی ٹکڑا و حصہ،اسی لئے بھائی کو شقیق کہا جاتا ہے۔حضرت حو ا آدم علیہ السلام کا جزو بدن تھیں لہذا عورتیں مردوں کا حصہ ہیں۔