۱؎ اُمّ المؤمنین نے اپنےفعل کا ذکر اظہاریقین کے لیے کیا یعنی میں یہ مسئلہ سناسنایا نہیں کہہ رہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس پر عمل کرکے تجربہ کرچکی ہوں اوراس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اس مسئلے میں مہاجرین و انصار کا بڑا اختلاف ہوگیا تھا۔انصار کہتے تھے کہ بلا انزال غسل واجب نہیں تب ابوموسیٰ اشعری نے فرمایا کہ تم جھگڑا مت کرو میں اس کا فیصلہ حضرت عائشہ صدیقہ سے کراتا ہوں ضرورت کے موقع پر قرآن کریم نے بھی ایسی چیزوں کی تشریح فرمائی ہے فرماتا ہے:"لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ" اورفرماتا ہے:"بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیۡـمٍ"وغیرہ،لہذاحدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔