۱؎ آپ معاذہ بنت عبداﷲ عدویہ ہیں،۳۳ھ میں آپ کا وصال ہوا،آپ تابعین میں سے ہیں۔
۲؎ چوڑے منہ والا جس میں دونوں کے ہاتھ بخوبی پڑ سکیں۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ وہ حضرات تہبند باندھ کر غسل کیا کرتے تھے اگرچہ خاوند اور بیوی کا آپس میں حجاب نہیں۔خیال رہے کہ اگرجنبی یابے وضو ہاتھ دھوکر ضرورۃً گھڑے یا مٹکے میں ہاتھ ڈال دے تو پانی مستعمل نہ ہوگا جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا،لیکن اگر پاؤں یا سر ڈال دے تو پانی مستعمل ہوجائے گا کیونکہ یہ بلا ضرورت ہے،نیز اگر بغیر دھوئے یا بے ضرورت ہاتھ ڈالے تو پانی مستعمل ہوجائے گا۔خیال رہے کہ عورت کے بچے ہوئے پانی سے مرد کو غسل یا وضو کرنا مکروہ ہے مگر ایک ساتھ غسل کرنا مکروہ نہیں۔
۳؎ معلوم ہوا کہ غسل کی حالت میں باتیں کرنا جائز ہے۔بشرطیکہ تہبند بندھا ہو ننگے باتیں کرنا منع۔