| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
اور ابوبکر احمد ابنِ حسین بیہقی ۱؎ اور ابوالحسن رزین ابن معاویہ عبدری ۲؎
۱؎ آپ کانام احمدابن حسین ہے،کنیت ابوبکر،نیشاپور کے علاقہ بیہق کے قریب قریہ جزر میں ولادت ہوئی،آپ اپنے زمانہ کےجلیل القدرمحدث حاکم رضی اللہ عنہ کے تلمیذ اعلٰی ہیں،آپ نے علاوہ بیہقی شریف کے اوربہت کتب لکھیں:"دلائل النبوۃ"،"کتاب البعث والنشور"،"کتاب الاداب"،"کتاب فضائل الاوقات"،"شعب الایمان"،"کتاب الخلافیات"وغیرہ۔آپ ان سات مصنفین میں سے ہیں جن کی تصنیفات سےمسلمانوں نے بہت فائدہ اٹھایا۔تاریک الدنیا،قلیل الغذا،بہت عابدتھے،تیس سال مسلسل روزہ داررہے،شافعی المذہب ہیں۔آپ کی ولادت نیشاپور میں ماہ شعبان ۳۸۴ھ میں ہوئی،وفات بھی نیشاپور ۴۵۸ھ میں،عمرشریف ۷۴ سال پائی،آپ کا تابوت شریف آپ کے وطن خرجر علاقہ بیہق میں پہنچایاگیا،وہاں ہی دفن کیا گیا جمادی اولٰی میں۔ ۲؎ آپ کا نام رزین ابن معاویہ،کنیت ابوالحسن،قبیلہ عبدر سے ہیں،جو عبدالدارابن قصیٰ کی اولاد سے ہے،آپ کی کتاب"النجریہ" مشہورہے، ۵۳۰ھ میں وفات ہوئی،قریشی النسل ہیں۔
امام اعظم ابو حنیفہ ! رضی اللہ عنہ
ہم بزرگان دین کے تذکرہ کو اس ذاتِ گرامی کے ذکر پاک پر ختم کرتے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زندہ جاویدمعجزہ اُمت مصطفویہ کا روشن چراغ،قریبًاسارےمحدثین وفقہاءکا استاد،دین متین کا مجتہد اول ہے،جن کے فضائل خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےبیان فرمائے کہ فرمایا اگر دین ثریا تارے کے پاس بھی ہوتا تو فارس کا ایک شخص وہاں سے لے آتا،آپ کا نام شریف نعمان ابن ثابت ابن زوقی ہے،حضرت زوقی یعنی امام صاحب کے دادا فارسی النسل ہیں۔حضرت امام کی کنیت ابوحنیفہ،لقب امام اعظم،آپ کے دادا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عاشق زاراورآپ کےخاص مقربین میں سے تھے،آپ ہی کی محبت میں فارس چھوڑکر کوفہ میں آپ کے پاس قیام کیا،حضرت زوقی اپنی بچے ثابت کو دعا کے لیے علی مرتضٰی کے پاس لائے،آپ نے دعا فرمائی اور بشارت دی کہ اس فرزند کے بیٹے سے عالم میں علم بھرجائے گا۔امام اعظم کی پیدائش کوفہ شہر ۸۰ھ میں ہوئی یعنی تمام آئمہ مجتہدین سے پہلے ۷۰ سال عمر شریف پاکر ۱۵۰ھ میں بغدادمیں وفات ہوئی اوربغدادکے قبرستان خیرزان میں دفن ہوئے،آپ کی قبر شریف زیارت گاہ خاص وعام ہے۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ آپ کی قبر قبول دعا کےلیے اکسیر ہے،آپ نے بہت صحابہ کا زمانہ پایاجن میں سے چارصحابہ سےملاقات کی انس ابن مالک،عبداللہ ابن ابی اوفیٰ،سہل ابن سعدساعدی،ابوطفیل عامرابن واصلہ۔آپ حضرت حماد کے شاگرد اور حضرت امام جعفر صادق کےتلمیذخاص ہیں کہ دوسال تک آپ کی صحبت میں رہے۔جلیل القدرتابعی ہیں،آپ اسلام کے سب سے پہلےمجتہداعظم ہیں،آپ کامذہب دنیا میں بہت پھیلا۔مرقاۃ نے فرمایا کہ سارے جنتیوں میں دوتہائی جنتی حضور کی امت ہیں اور سارے مسلمانوں میں دو تہائی مؤمن حنفی ہیں،اکثراولیاءاللہحنفی ہوئے،چالیس سال عشاء کے وضوءسے فجرکی نمازپڑھی،ہرشب پورا قرآن ایک رکعت میں ختم کرتے تھے،شب میں آپ کے رونے کی آواز گھر سے باہر سنی جاتی تھی،آپ کی وفات کے وقت سات ہزار قرآن مجیدختم ہوئے،سارےمحدثین وفقہاءبالواسطہ یابلاواسطہ امام اعظم کے شاگرد ہیں۔اس کی پوری تحقیق کے لیے ہماری کتاب"جاء الحق"حصہ دوم دیکھو۔