| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
و غیرھم و قلیل ما ھو و ابی اذا نسبت الحدیث الیھم کانی اسندت الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم لانھم قد فرغوا منہ و اغنونا عنہ و سردت الکتب و الابواب کما سردھا و اقتفیت اثرہ فیھا و قسمت کل باب غالبا علی فصول ثلثۃ اولھا ما اخرجہ الشیخان او احدھما و اکتفیت بھما و ان اشترك فیہ الغیر لعلو درجتھما فی الروایۃ و ثانیھا ما اوردہ غیرھما من الائمۃ
اور اُن کے ماسوا مگر ماسوا تھوڑے ہیں ۱؎ اور مَیں نے جب ان بزرگوں کی طرف حدیث منسوب کردی تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف اسنادکردی۲؎ کیونکہ ان بزرگوں نے اسناد سے فارغ ہو کر ہم کو بے نیاز کردیا۳؎ اور مَیں نے کتابیں اور باب ویسے ہی مرتب کئے جیسے انہوں نے کئے تھے۔اس میں مَیں اُنہی کے قدم پر چلا۴؎مَیں نے اکثر ہر باب کو تین فصلوں پر تقسیم کیا۵؎ پہلی فصل میں وہ احادیث جنہیں شیخین یا اُن میں سے ایک نے روایت کیا مَیں نے انہی دونوں پر کفایت کی اگرچہ اس کی روایت میں دوسرے بھی شریک ہوں شیخین کی بلندیٔ درجہ کے سبب ۶؎ دوسری فصل میں وہ
۱؎ یعنی وہ حدیثیں جو مذکورہ بزرگوں کے علاوہ کی ہیں وہ تھوڑی ہیں۔"ھو" کا مرجع غیرھم ہے۔ ۲؎ سبحان الهب!کیا ایمان افروز بات کہی،مطلب یہ ہے کہ میں مشکوٰۃ میں حدیثوں کا صرف متن بیان کرونگا نہ کہ اسنادکیونکہ میں آخر میں کہہ دونگا کہ اسےمسلم بخاری یا فلاں کتاب نے روایت کیا،میری یہ نسبت گویا اسناد ہے۔کسی حدیث کوان بزرگوں کا قبول فرمالینا اس کے صحیح قوی ہونے کی دلیل ہے،یہی ہم حنفی کہتے ہیں کہ کسی حدیث کو امام ابوحنیفہ کا قبول فرمالینا اور اس پر عمل کرلینا اس حدیث کے قوی ہونے کی کھلی ہوئی دلیل ہے،امام صاحب کی طرف حدیث کی نسبت گویا حضور کی طرف نسبت ہے،بلکہ امام صاحب کی کوئی حدیث ضعیف نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ زمانہ حضور کے زمانہ سے بہت ہی قریب ہے۔اس وقت اسنادوں میں ضعیف راوی شامل نہیں ہوئے تھے۔ ۳؎ مرقاۃ میں اس جگہ فرمایا کہ ان کتب احادیث میں کسی حدیث کا مطالعہ کرکے یہ کہناجائزہےکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کیونکہ ان مصنفین پر بھی اعتماد ہے اور ان کتابوں پر بھی بھروسہ۔ ۴؎ یعنی جس ترتیب سے صاحب مصابیح نے مسائل کی کتابیں اور ان کتابوں کے باب بیان کیئے ہیں،میں نے بھی اسی طرح بغیر تقدیم و تاخیر بیان کیئے اور کتابوں اور بابوں کے وہی عنوان رکھے جو انہوں نے رکھے تھے۔مثلًا "کتاب الطہارت"اس میں وضو کا،پھر غسل کا،اور پھر تیمم کا باب ہوگا۔ ۵؎ یعنی اگرچہ بعض بابوں میں دو۲ ہی فصلیں ہوں گی مگر یہ بہت کم،اکثر تین ہی ہوں گی۔ ۶؎ یعنی چوں کہ فن حدیث میں بخاری و مسلم کا درجہ بہت بلند ہے حتی کہ ان کو حدیث کا شیخین کہا جاتا ہے۔جیسے فقہ میں امام ابوحنیفہ وابویوسف کو،اورمنطق میں فارابی اوربوعلی سیناکو۔اس لیئے پہلی فصل میں میں ان بزرگوں کی روایتیں لاؤں گا اوراگرکسی حدیث کوشیخین کے علاوہ محدثین نےبھی نقل کیا ہو تو میں وہ حدیث صرف شیخین ہی کی طرف نسبت کروں گا۔مثلًا اگر کوئی حدیث بخاری اورترمذی کی ہے تو میں صرف بخاری کا نام لوں گا اور کہوں گا "رواہ البخاری"کہ ان کے ذکر کے ہوتے کسی کے ذکر کی ضرورت نہیں۔