۱؎ آپ کا نام شریف سلیمان ابن اشعث ابن اسحاق ابن بشیر ہے،کنیت ابوداؤد،وطن مالوف،علاقہ خراسان میں ہرات کے قریب مقام سجستان ہے جسے سجستان کہا جاتا ہے،ولادت ۲۰۲ھ،وفات ۲۷۵ھ مقام بصرہ میں ہوئی،وہاں ہی مزارشریف ہے،عمر شریف ۷۳ سال، آپ نےپانچ لاکھ احادیث سےچارہزار آٹھ سو۴۸۰۰ احادیث جمع فرمائیں۔بڑے عالم،فقیہ،محدث،عابدوزاہد،متقی و پرہیزگار تھے رضی اللہ عنہ
۲؎ آپ کانام ابوعبدالرحمان ابن احمدابن شعیب ابن بحر ابن سنان نسائی ہے،علاقہ خراسان میں ایک بستی ہے نساءقریب مرد وہاں کے متوطن ہیں،آپ نے اولًا ایک حدیث کی بڑی کتاب لکھی جس کا نام نسائی تھاکسی نے آپ سےپوچھا کہ کیا نسائی میں تمام احادیث صحیح ہیں؟فرمایا نہیں،اس نےعرض کیا کہ احادیث صحیحہ جمع کرو،تب آپ نے اس سےصحیح احادیث منتخب کیں جس کا نام رکھا مجتبی نسائی۔اب یہ ہی کتاب مروج ہے۔طلبِ علم کے لیے بہت سفر کیئے۔جب دمشق پہنچے تو کسی نے پوچھا کہ امیرمعاویہ افضل ہیں یاعلی مرتضی،تو فرمایا کہ امیرمعاویہ کے لیے یہ ہی کافی ہے کہ ان کی نجات ہوجاوے،اس پر وہاں کے لوگوں نے بہت مارا وہاں کے زخموں سے جانبر نہ ہوسکے،بعض نے فرمایا کہ بیت المقدس پہنچ کروفات پائی،بعض نے کہا مکہ معظمہ میں وفات ہوئی،اور صفا مروہ کے درمیان دفن ہوئے۔بڑے آئمہ حدیث آپ کے شاگردہیں جیسے امام طحاوی،ابو القاسم طبرانی وغیرہ۔علی العموم مصر میں رہتے تھے،آپ کی ولادت ۲۱۵ھ وفات ۳۰۳ھ میں ہوئی،بعض نے لکھا ہے کہ آپ کے زمانہ میں خوارج کا بہت زور تھا،آپ ہمیشہ فضائل اہل بیت بیان فرماتے تھے،اس پرخوارج نے آپ کی پشت میں نیزہ مارا جو آپ کے سینہ سے نکلا اور یہ کہتے گرے "فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ"یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔
۳؎ آپ کا نام محمدابن یزید ابن ماجہ ربیعی ہے،کنیت ابوعبداللہ،قزوین کے رہنے والے،آپ کی کتاب ابن ماجہ ہے،احادیث غیرصحیح زیادہ ہیں،اسی وجہ سےبعض لوگوں نے ابن ماجہ شریف کےبجائے دارمی یا مؤطاکو صحاح ستہ میں داخل کیا ہے۔آپ کی ولادت ۲۰۹ھ میں،وفات رمضان ۲۷۳ھ میں ہوئی،عمر شریف۶۴ سال ہوئی۔
۴؎ آپ کا نام عبداللہ ابن عبدالرحمن ابن افضل ابن بہرام ہے،کنیت ابو محمد،قبیلۂ دارم ابن مالک سے ہیں،اسی لیےدارمی کہلاتے ہیں۔ سمرقندوطن شریف ہے،اپنے زمانے کے بڑے محدث،مفسر،فقیہ تھے،آپ کی وفات کی خبر پر امام بخاری بہت روئے،آپ کے شاگرد امام مسلم،ابوداؤد،و ترمذی وغیرہ ہیں،آپ کی ولادت ۱۸۱ھ اور وفات شریف ۲۵۰ھ ۸ ذی الحجہ کو ہوئی،۷۴ سال عمر شریف ہوئی،آپ کی کتاب دارمی شریف مشہور ہے۔
۵؎ آپ کا نام ابوالحسن ابن علی ابن عمر ہے،بغداد کے ایک محلہ قطن کے رہنے والے ہیں،آپ اپنے زمانہ کے محدث امام اسماءالرجال کے حافظ تھے،آپ کی کتاب دارقطنی مشہورومعروف ہے،آپ کے شاگرد بڑے بڑے محدثین ہیں جیسے ابونعیم،حاکم،امام اسفرائینی وغیرہم۔آپ کی ولادت ۳۰۵ھ،اور وفات ۳۸۵ھ میں بغداد شریف میں ہوئی،وہاں آپ کا مزارمبارک ہے۔