Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول
-7 - 728
المذکورین و ثالثھا ما اشتمل علی معنی الباب من ملحقات مناسبۃ مع محافظۃ علی الشریطۃ و ان کان ماثورا عن السلف و الخلف ثم انك ان فقدت حدیثا فی باب فذلك عن تکریر اسقطہ و ان وجدت اخر بعضہ متروكا علی اختصارہ او مضموما الیہ تمامہ فعن داعی اھتمام اترکہ و الحقہ و ان عثرت علی اختلاف فی الفصلین من ذکر غیر الشیخین فی الاول و ذکرھما فی الثانی فاعلم انی بعد تبتعی کتابی الجمع بین الصحیحین للحمیدی
احادیث جوان کے علاوہ دوسرے مذکورہ اماموں نے روایت کیا ۱؎تیسری فصل میں وہ مناسب ملحقہ حدیثیں جو باب کے معنی پرشامل ہیں شرائط کی رعایت کرتے ہوئے ۲؎  اگرچہ متقدمین و متاخرین سے منقول ہوں ۳؎ پھر اگر تم کسی باب میں مصابیح کی کوئی حدیث نہ پاؤ تو وہ تکرار کی وجہ سے ہوگا جسے میں نکال دوں گا۴؎اور اگر تم دوسری حدیث کو ایسا پاؤ کہ جس کا بعض حصہ اختصارًا چھوڑ دیا گیا ہے یا اس کا تتمہ شامل کردیا گیا ہے تو یہ کسی اہتمام کے باعث ہوگا کہ کچھ چھوڑدو ں گا کچھ ملادوں گا۵؎  اور اگر تم دو فصلوں میں کسی اختلاف پر مطلع ہو مثلًا یوں کہ پہلی فصل میں غیر شیخین کی اور دوسری میں شیخین کی حدیث مذکور ہو۶؎ تو جان لینا یہ اس لئے ہے کہ میں نے حمیدی کی اور جامع اصول کی کتابیں جو شیخین کی
۱؎  جیسے ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ وغیرہ دوسری فصل میں ان کی احادیث ذکرکی جائینگی۔

۲؎ یعنی ہر باب کی دوفصلوں میں مصابیح کی احادیث ہوں گی اورتیسری فصل صاحب مشکوٰۃ کی طرف سے زیادہ کی جائینگی،اوراس میں جوحدیثیں بیان ہوں گی ان میں انہی باتوں کالحاظ ہوگا کہ اولًاحدیث کےراوی کانام،پھر آخر میں کتاب کا حوالہ۔

۳؎ یعنی میں نے اپنی تیسری فصل میں یہ التزام کیا کہ حدیث مرفوع ہی لاؤں بلکہ قول صحابہ و تابعین اور ان کے افعال کریمہ کی روایت بھی نقل کرونگاکیونکہ اصطلاح محدثین میں اسےبھی حدیث کہتے ہیں۔سلف کے معنی ہیں گزرے ہوئے لوگ یعنی متقدمین،خلف کے معنی ہیں پیچھے والے یعنی متاخرین۔یہاں سلف سے مراد صحابہ ہیں،خلف سے مراد تابعین،چونکہ صحابہ کا درجہ غیرصحابہ سےکہیں زیادہ ہے اس لیئے ان کا نام پہلےلیا تابعین کا بعدمیں۔

۴؎  اگرکسی باب میں کوئی حدیث مصابیح میں تو تھی مگرمشکوٰۃ میں نہیں تو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ مصابیح میں وہ حدیث دو جگہ آئی تھی،میں نے ایک جگہ رکھی دوسری جگہ سے ساقط کردی۔

۵؎ یعنی اگر کوئی حدیث مصابیح میں تو مختصرًا مذکور تھی،مگرمشکوٰۃ میں پوری دراز یا اس کے برعکس مصابیح میں مکمل و دراز تھی،مگر میں نے اس کو مختصرکرکےنقل کیاتو اس کی کوئی حکمت اور وجہ ہوگی،میں نے بلاوجہ یہ فرق نہ کیا مثلًا ایک دراز حدیث کا ایک جز باب کے مناسب ہے باقی نہیں تو میں صرف وہ مناسب جز ہی نقل کروں گا مختصرًا اور اگر کسی حدیث کے دو جز مصابیح کے دوبابوں میں منقول ہوئے تو میں پوری حدیث ایک باب میں طویل ذکر کروں گا۔

۶؎ یعنی صاحب مصابیح کا طریقہ تو یہ ہے کہ فصل اول میں شیخین کی احادیث لاتے ہیں اور فصل دوم میں ان کے علاوہ کی،لیکن اگر مشکوٰۃ میں تم کو اس کے خلاف ملے کہ پہلی فصل میں غیر شیخین کی کوئی روایت آگئی ہو یا دوسری فصل میں شیخین کی تو اس کی وجہ وہ ہے جو آگے مذکورہے۔
Flag Counter