Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول
-6 - 728
و جامع الاصول اعتمدت علی صحیحی الشیخین و متنیھماو ان رایت اختلافا فی نفس الحدیث فذلك من تشعب طرق الاحادیث و لعلی ما اطلعت علی تلك الراویۃ التی سلکھا الشیخ رضی اللہ عنہ و قلیلا ما تجد اقول ما وجدت
احادیث کی جامع ہیں،کے تلاش کے بعدصحیح مسلم وبخاری اوران کے متون ۱؎   پراعتماد کیا اور اگرتم اصل حدیث میں فرق پاؤ تویہ فرق حدیثوں کی اسنادوں کے فرق کی وجہ سے ہوگا۲؎ اور شایدمیں اس روایت پرخبردار نہ ہوا ہوں جدھر حضرت شیخ گئے۔تم بہت کم یہ بھی پاؤ گے کہ میَں کہوں گا۔
۱؎ یعنی اس اختلاف کی وجہ یہ ہوگی کہ میں نے مشکوٰۃ کی تالیف کے دوران میں امام حمیدی کی کتاب "جمع بین الصحیحین" اور امام مجددالدین کی کتاب "جامع الاصول" بھی دیکھیں اور اصل کتاب یعنی بخاری و مسلم کا بھی مطالعہ کیا اگر ان دونوں جامع کتب اوراصل بخاری ومسلم میں اختلاف پایا تو میں نے ان جامع کتب کا اعتبار نہ کیا بلکہ مسلم و بخای کا اعتبار کیا۔مثلًا ایک حدیث جامع الاصول میں شیخین کی روایت سے منقول ہے اور صاحب مصابیح نے فصل اول میں بیان کی مگرمسلم و بخاری میں وہ روایت نہیں تو اگر میں وہ حدیث لاؤنگا تو فصل اول ہی میں مگر اس کی نسبت مسلم و بخاری کی طرف نہ کرونگا،ایسے ہی برعکس کہ اگر ان جامع کتب میں کسی حدیث کی نسبت مسلم و بخاری کے علاوہ کسی اور کتاب کی طرف ہے،مگر وہ حدیث مسلم وبخاری میں مجھے مل گئی،صاحب مصابیح  اسے دوسری فصل میں لائے تو میں بھی لاؤنگا دوسری فصل میں ہی،مگرنسبت مسلم وبخاری کی طرف کروں گا۔خیال رہے کہ کتاب جمع بین الصحیحین کے مصنف حافظ ابوعبداللہ محمدابن ابی النصر ابن حمیداندلسی قرطبی ہیں جو دارقطنی کے شاگردوں سے ہیں،آپ بغداد میں رہے وہاں ہی  ۴۸۰؁ھ میں وفات پائی،آپ نے اپنی اس کتاب میں مسلم وبخاری کی احادیث جمع فرمائیں اور جامع الاصول کے مصنف امام مجدد الدین ابوالعادات مبارک ابن محمد جزری ہیں جنہیں ابن اثیر کہا جاتا ہے۔آپ موصل میں رہے وہاں ہی   ۶۰۶ھ؁ میں وفات پائی،آپ نے جامع الاصول میں صحاح ستہ کی احادیث نقل فرمائیں،صاحب مصابیح نے ان ہی کتب سے مصابیح تالیف فرمائی،صاحب مشکوٰۃ نے ان دونوں کتب کا بھی مطالعہ کیا اور اصل کتب حدیث کا بھی،ہماری اس تقریر سے یہ جملہ بفضلہٖ تعالٰی واضح ہوگیا اورمعلوم ہوگیا کہ صاحب مشکوٰۃ نےمشکوٰۃ لکھنے میں کتنی محنت کی ہے۔

۲؎ یعنی اگر کہیں ایسا ہو کہ مصابیح کی حدیث کے الفاظ وعبارت کچھ اور ہیں،مشکوٰۃ کی حدیث کی عبارت کچھ اور،تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ہی حدیث مختلف اسنادوں سے مختلف عبارتوں میں  مروی ہوتی ہے۔صاحب مصابیح کو کسی اسناد سے وہ الفاظ ملے جو انہوں نے مصابیح میں لکھے،مجھے وہ اسناد اور وہ الفاظ نہ ملے بلکہ دوسری اسناد میں دوسرے الفاظ ملے،تو میں نے اپنی تحقیق شدہ عبارت نقل کی۔اس سےمعلوم ہوا کہ اگر کسی محدث یا فقیہ کی حدیث ہم کو نہ ملے تو اس میں ہمارا اپنا قصور ہے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس بزرگ نے غلطی کی،دیکھو صاحب مشکوٰۃ نے مصابیح کی نقل کردہ حدیث کو غلط نہ فرمایا بلکہ اپنے قصور علم کا اقرار کیا یہ ہی ہم حنفی کہتے ہیں کہ اگر امام ابوحنیفہ قُدِّسَ سِرُّہٗ کے مسلک کی کوئی حدیث ہم کو نہ ملے یا ضعیف ملے تو اس میں  ہمارا قصور ہے نہ کہ حضرت امام کا،صاحب مشکوٰۃ نے یہ ہی سبق دیا۔
Flag Counter