| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
ھذہ الروایۃ فی کتب الاصول او وجدت خلافھا فیھا فاذا و قفت علیہ فانسب القصور الی لقلۃ الدرایۃ لا الی جناب الشیخ رفع اللہ قدرہ فی الدارین حاشا لله من ذلك رحم اللہ من اذا وقف علی ذلك نبھنا علیہ وارشدنا نقلت ذلك الاختلاف کما وجدت و ما اشار الیہ رضی اللہ عنہ من غریب او ضعیف او غیرھما بینت وجھہ غالبا و ما لم یشر الیہ مما فی الاصول فقد
میں نے یہ روایت اصول کی کتابوں میں نہ پائی۔یا ان میں اس کے خلاف پائی تو جب تم اس پر مطلع ہو تو میری کم علمی کی بناءپرقصور کو میری طرف منسوب کرنا نہ کہ حضرت شیخ کی بارگاہ کی طرف،اللہ دونوں جہانوں میں اُن کی عزت بڑھائے ۱؎ اس نسبت سے خداکی پناہ خدا اس پر رحمت کرے جو اس حدیث پر واقف ہوتو ہمیں متنبہ کردے اور ہم کو سیدھے راستہ کی راہبری کرے۲؎ میں نے حتی الوسع حدیثوں کی تلاش اور کرید میں کوتاہی نہیں کی اوراس اختلاف کوویسے ہی نقل کردیاجیساپایا۳؎ اورجب کبھی شیخ نے غریب ضعیف وغیرہ کی طرف اشارہ کیا تو اکثر مَیں نے اُس کی وجہ بیان کردی۴؎ اور اصولِ احادیث میں سے جہاں اس
۱؎ یعنی مصابیح میں بعض احادیث وہ بھی ہیں جو مجھےکسی کتاب میں ملی ہی نہیں یا اس کے خلاف ملیں تو میں نے وہ حدیث مشکوٰۃ شریف میں لکھ تو دی مگر ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا کہ مجھے یہ حدیث نہ ملی یا اس کے خلاف ملی تو تم اس سے حضرت شیخ سےبدگمان نہ ہونا بلکہ مجھےقصورمندسمجھنا کہ میراعلم کم ہے۔سبحان اللہ!یہ ہے ادب۔اے حنفیو!تم بھی یہ ادب سیکھواگرتمہیں کوئی ایسی حدیث نہ ملے جوحضرت امام کی سند ہے تو سمجھو کہ بے علم یا کم علم ہم ہیں،ہماری تلاش میں قصور ہے،حضرت امام کی حدیث صحیح ہے۔ ۲؎ یعنی ایسی حدیث پر جو مجھے نہ ملی یا خلاف ملی اگر کسی صاحب کو مل جاوے تو مجھے براہ مہربانی فورًا اطلاع دے تاکہ میں اس جگہ حوالہ لکھ دوں۔الحمدﷲ! فقیر کا عقیدہ یہ ہے کہ صاحبِ ہدایہ نے حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی تائید میں جواحادیث نقل فرمائیں اگرچہ تمام دنیا انہیں ضعیف یاغریب کہے،حضرت امام کے مسائل کی احادیث کسی کو نہ ملیں لیکن حضرت امام کے مسائل کی احادیث صحیح ہیں اگرچہ ہم کو نہ ملیں یا ضعیف ہوکر ملیں اسی لیے فقیر نے "فی جاء الحق"حصہ دوم۲ تصنیف کی اس کا مطالعہ کرو۔ ۳؎ یعنی یہ نہ سمجھنا کہ میں نے احادیث مصابیح کی تلاش میں کوتاہی کی یونہی دفع الوقتی کرکے لکھ دیاکہ مجھے نہ ملی بلکہ میں نے بقدر طاقت بہت تلاش کی نہ ملنے پر مجبورًا یہ لکھا۔سبحان اللہ ! ۴؎ یعنی جن احادیث کےمتعلق شیخ نےمصابیح میں فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف یاغریب یامنکسریامعلل ہے،میں نےمشکوٰۃ میں اکثر اس کے ضعف وغیرہ کی وجہ بیان کردی،ہاں کبھی ایسا ہوگاٍکہ وجہ بیان نہ کرسکا اس کی وجہ بھی میری معلومات کی کمی ہے کہ مجھے اس کے ضعف وغرابت کی وجہ معلوم نہ ہوسکی۔