Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول
-4 - 728
قفیتہ فی ترکہ الا فی مواضع لغرض و ربما تجد مواضع مھملۃ و ذلك حیث لم اطلع علی روایۃ فترکت البیاض فان عثرت علیہ فالحقہ بہ احسن اللہ جزاك و سمیت الکتب بمشکوٰۃ المصابیح و اسئل اللہ التوفیق و الاعانۃ
طرف اشارہ نہ کیا وہاں میں ان کےنقش قدم پر چلا ۱؎ سواءچندجگہ کے وہ بھی کسی غرض سے۲؎ بسااوقات تم کچھ جگہ چھوٹی ہوئی پاؤ گے یہ وہاں ہوگا جہاں میں روایت پرمطلع نہ ہوا وہاں مَیں نےسفید جگہ چھوڑدی۳؎  تو اگرتم اس پرمطلع ہوتو وہاں ملادو۔اللہتمہیں جزائےخیردے،مَیں نے اُس کا نام "مشکوٰۃ المصابیح"رکھا۴؎ اللہ تعالٰی سے توفیق،مدد،ہدایت،
۱؎ یعنی ایسا اکثر ہوا کہ کتب اصول نےکسی حدیث کے ضعف یا غرابت کی تصریح کی مگر صاحب مصابیح نے اس کا ذکر نہ کیا تو ایسی جگہ میں نے صاحب مصابیح کی پیروی کی اور اس کا ذکر نہیں کیا۔

۲؎  وہ غرض یہ ہے کہ بعض طاعنون نے مصابیح کی بعض احادیث کوموضوع کہہ دیاحالانکہ ترمذی وغیرہ نے صحیح یا حسن کہا ہے تو میں نے صاحب مصابیح سے طعن اٹھانے کے لیے اس کی تصریح کردی کہ فلاں کتاب نے اسے صحیح کہا ہے یا یہ وجہ ہوگی کہ صاحبِ مصابیح کے مقدمہ میں فرمایا کہ میں نے اپنی اس کتاب میں کوئی منکرروایت درج نہیں کی حالانکہ اس کی کوئی حدیث منکر بھی تھی تو میں نے اسکی تصریح کردی تاکہ کوئی اس حدیث کو مصابیح میں دیکھ کر صحیح نہ سمجھے۔(اشعۃ اللمعات)

۳؎ یعنی مشکوٰۃ شریف میں کہیں حدیث کے بعد تھوڑی سی خالی جگہ چھوٹی پاؤگے تو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ مصابیح میں تو وہ حدیث موجود تھی لیکن  مجھے کسی کتاب میں نہ ملی،اورمجھے پورا اعتمادہے کہ صاحب مصابیح علامہ بغوی نےکہیں دیکھ کر ہی لکھی ہوگی اس لیے میں نے مشکوٰۃ میں حدیث تو لکھ دی مگر کتاب کے نام کے لیے جگہ چھوڑی دی تاکہ اگر کسی کو اس پر اطلاع ہوجائے تو وہ یہاں لکھ دے چنانچہ علامہ شمس الدین محمدی جزری وغیرہم علماء نے ایسا کیا کہ وہ جگہ سفید ہی رکھی مگر اس کتا ب کا نام بیان کردیا تاکہ دیکھنے والے کو پتہ لگے کہ یہ نقل صاحب  مشکوٰۃ کی نہیں ہے کسی اور کی ہے

۴؎ کیونکہ مشکوٰۃ کے معنی ہیں طاق۔مصابیح مصباح کی جمع بمعنی چراغ،معنی ہوئے چراغوں کا طاق کیونکہ ہر حدیث نورانیت اورہدایت میں چراغ کی طرح ہے اور یہ کتاب ان احادیث کے ملنے کی جگہ۔نیز مصابیح اصل کتاب کا نام بھی ہے وہ ساری کتاب مشکوٰۃ میں موجودہے۔بہرحال یہ نام مسمّٰی کے مطابق ہے۔

فقیرحقیر"احمدیار"نے اپنی اس شرح کا نام مرأۃ رکھایعنی چراغوں کے طاق کے سامنے لگا ہوا شیشہ جو بیرونی ہوا کو اندر نہ پہنچنے دے۔فقیر کی نیت یہی ہے کہ اس شرح سے منکر ین حدیث اور ناسمجھ لوگوں کے اعتراضات دفع ہوں،احادیث کا تعارض دور کیا جائے۔رب العزت قبول فرمائے۔یا مشکوٰۃ کی حدیثوں کو دیکھنے کا آئینہ کہ اس کی حدیثیں اس شرح سے دیکھو اور سمجھو۔
Flag Counter