| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
و الھدایۃ و الصیانۃ و تیسیر ما اقصدہ و ان ینفعنی فی الحیوۃ و بعد الممات و جمیع المسلمین و المسلمات حسبی اللہ و نعم الوکیل ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العزیز الحکیم
حفاظت کا طلبگارہوں اور اپنے مقصود کی آسانی کا جویاں اور یہ کہ اللہ زندگی و بعدموت مجھے اور تمام مسلمان مرد وعورتوں کو نفع دے ۱؎ مجھے اللہ کافی ہے وہ ہی اچھا وکیل ہے(بھروسہ کے لائق)اورنہیں ہے طاقت اور نہ قوت مگر غالب حکمت والے اللہ سے۔
۱؎ اس طرح کہ میری زندگی اتنی درازہو کہ تصنیف کے بعد پڑھ بھی سکوں،پڑہابھی سکوں اوراس کی برکت سے زندگی ایمان اورتقویٰ میں بسرہو،مرتے وقت کلمہ نصیب ہو،اور یہ کتاب قبر وحشر میں کام آئے کہ میرے بعد بار بار شائع ہوتی رہے،مسلمان فائدے اٹھاتے رہیں اور مجھے اس کا ثواب ملتا رہے۔الحمدﷲ!مصنف کی یہ دعا قبول ہوئی کہ بفضلہٖ تعالٰی دنیا کے ہر خطہ میں جہاں مسلمان ہیں یہ کتاب موجود ہے،ہر جگہ اس کے درس دیئے جارہے ہیں،مختلف زبانوں میں اس کی شرحیں کی جاچکی ہیں،چنانچہ عربی میں مرقاۃ اور لمعات فارسی میں اشعۃ اللمعات اردو میں،نہ معلوم کتنی شرحیں ہوچکی ہوں گی،یہ بندہ گنہگارشرمسار احمدیاربھی مصنف رحمۃ اللہ علیہ کی دعا کے ساتھ یہی دعا کرتا ہے اور انہیں کی طفیل قبولیت کا امیدوار ہے۔اللہ تعالٰی اس ناچیزشرح کوحقیقتًامشکوٰۃ کا مرآۃ بنائےاورقبول فرماکرمیرے لیئے کفارۂ سیئات اورصدقۂجاریہ بنائے۔آمین یارب العلمین!
وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی علٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ وَنُورِعَرْشِہٖ سَیِّدِنَا وَمَولَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ o
بشارت عظمٰی
الحمدﷲ! فقیرنے حضرت مولانا افسرصاحب صابری مقیم کراچی کی خدمت میں اس شرح کے تاریخی نام کےمتعلق عریضہ لکھا تھا۔کچھ عرصہ کے بعد یعنی ۲۰/ذیقعد ۱۳۷۸ھ جمعہ کو آل ممدوح کا خط آیا جس میں تحریر تھا کہ میں بوجہ علالت تاریخی نام میں غور نہ کرسکا۔آخر ایک شب خواب میں مجھے اس شرح کا تاریخی نام بتایا گیا۔ملاحظہ ہو!
ذوالمرآت ۱۳۷۸ھ
سبحان اللہ!کیسا سادہ نام ہے اورمشکوٰۃ کاہم وزن ہے،فقیرحقیرمولانا کی اس خواب کوایک غیبی بشارت سمجھتاہے اورنہایت فخرسے اس کا تاریخی نام"ذوالمرآت"۱۳۷۸ھ شرح مشکوٰۃ ہی رکھتا ہے۔فالحمدﷲ!
"اَحْمَدْ یَار" سرپرست مدرسہ غوثیہ نعیمہ گجرات پاکستان